پنجاب ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے زیر اہتمام جشن آزادی ٹورنامنٹ

قصہ مختصر پنجاب ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے زیر اہتمام منعقدہ مقابلوں کا

یلغار۔ فیصل شامی

 

اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے اور ہم بھی یایننا اچھے ہی ہیں اور دوستوں آج ہم آپ کو لاہور میں ہونے والی خصوصی تقریب کا آنکھوں دیکھا سنانے جا رہے ہیں اور وہ تقریب لاہور میں حافظ بٹ صاحب مرحوم کے نام سے منسوب . فٹبال پنجابیونیورسٹی گراونڈ میں منعقد ہوئی تقریب پنجاب ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کےزیر اہتمام منعقد ہوئی جو کہ بسلسلہ جشن آزادی . ویٹ لفٹنگ ٹورنامنٹ تھا اور اس ٹورنامنٹ میں ہم نےبھی بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور اس خوبصورت سی تقریب میں شرکت کا موقع پیارے بھائی سہیل بٹ صاحب کے توسط سےملا اور جب. ہم تقریب میں شرکت کے لئے اسٹیڈیم پہنچے تو جناب عقیل جاوید بٹ صاحب نے ہمارا. بھرپور استقبال کیا اور ہمیارے گلے میں پھولوں بھرا ہار بھی پہنا دیا اور جب ہم تقریب میں شرکت کے لئے حال میںپہنچے تو حال جو تھا وہ نوجوان لڑکے لڑکیوں سے بھرا ہوا تھا اور حال میں موجود اکٹریت ینگسٹرز کی تھی جو کہ مختلف کالجز کےطلباء و طالباتت تھے جو کہ مختلف کلبز کیطرف سے مقابلے میں حصہ لے رہے تھے اور ویٹ لفٹنگ کے یہ مقابلے ملتلف کیٹیگریز کے تھے اور جب ہم حال میں پہنچے تو عقیل جاوید بٹ صاحب جو کہ پنجاب ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ہیں نے اپنے دیگر عہدیاران سے ہمارا تعارف کروایا اور پھر کچھ دیر بعد ہی پروگرام یعنی کہ ویٹ لفٹنگ کے مقالوں کا آغاز کیا گیا اور ایک بڑے سے ویٹ پہ فیتہ باندھا گیا تھا جسے ہم نے کاٹ کے باقاعدہ ویٹ لفٹنگ مقابلوں کا آغاز کیا پہلے نوجوان خواتین کھلاڑیوں کے مقابلے ہوئے جس میں نوجوان کھلاڑی لڑکیوں نے سو کلو گرام تک وزن اٹھایا اور بہت سے تو ایسی دبلی پتلی خواتین تھی جنھیں دیکھ کے اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ بھی پہلوانی کر سکتی ہیں یقیننا وزن اٹھانا بھی کسی پہلوانی سے کم نہیں اور کہتے ہیں کہ پہلوانی میں پہلا نمبر گوجرانوالہ کا جبکہ دوسرا لاہور کا نمبر آتا ہے جبکہ کہا جاتا ہے کہ کھانوں میں بھی پہلا نمبر گوجرانوالہ اور دوسرا لاہور کا ہی ہے اور یقیننا پہلوانی بھی طاقت کے ساتھ ساتھ دماغ کا کھیل ہے بالکل ویسے ہی ویٹ لفٹنگ بھی جسم و طاقت کے ساتھ ساتھ دماغ کا کھیل ہے اور یقیننا ویٹ لفٹنگ میں بھی پاکستانی ویٹ لفٹر دنیا بھر میں پاکستان کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں اور اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں بے بہا ٹیلنٹ ہے جو کہ ضائع ہو جاتا ہے اور وہ شائد اس لئے کہ ٹیلنٹ کی قدر نہیں کی جاتی ہمارے ملک میں اور یقیننا ایک وقت تھا کہ پوری دنیا بھر میں کھیل کے میدانوں میں پاکستانی پرچم لہراتا نظر آتا تھا لیکن آج کے دور میں پاکستان کھیلوں کے میدان میں کمزور دکھائی پڑتا ہے اور وہ اس لئے کہ سرکاری سطح پہ کسی کھیل کی سرپرستی نہیں ہوتی اور نا ہی کھلاڑیوں کے لئے کوئی فنڈ مہیا کیا جاتا ہے تاکہ کھیل میں بھی کھلاڑیوں میں بھی تبدیلی دیکھنے میں نظر آ سکے اور ٹیلنٹ بھی ابھر کے سامنے آئے اور یہ ٹیلنٹ بھی نوجوان ویٹ لفٹر کھلاڑیوں میں بھی نظر آ رہا تھا اور یقیننا پہلوانی ایک قدیمی کھیل ہے اور پہلوانی کے لئے داو پیچ لڑانے پڑتے ہیں کیا بتائیں اور گو کہ پہلوانی دیکھتے تو بہت سے ہیں لیکن پہلوانی کرنے والے یوں سمجھیں کے آٹے میں نمک برابر ہی ہو گی بہر حال بات ہو رہی تھی ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کے مقابلوں کی تو پہلے خواتین کے مقابلے ہوئے جو کہ تقریبا گھنٹہ سے زائد وقت جاری رہے اور اسکے بعد خواتین کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے اور ہم نے بطور مہمان خصوصی کھلاڑیوں کے گلے میں میڈل پہنائے اور سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کئے اور اسکے بعد لڑکوں کے مقابلوں کا آغاز ہوا اور بہت بڑی تعداد نے شرکت کی اور یہ مقابلے تقریبا رات دیر تک جاری رہے اور اسی دوران جناب عمران بٹ صاحب جو پنجاب ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کے سرپرست بھی ہیں وہ بھی اپنے صاحبزادے عرفان بٹ کے ہمراہ تشریف لے آئے اور جناب عرفا بٹ سے بھی اچھی گپ شپ ہوئی وہ بطور کوچ نوجوان ویٹ لفٹرز کی تربیت بھی کر رہے ہیں اور ان سے ویٹ لفٹنگ سمیت دیگر کھیلوں کے مسائل کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئے اور ویٹ لفٹنگ بارے معلومات بھی ان سے حاصل کرنے کی کوشش کی اور یہ مقابلے تو دیر تک جاری رہے لیکن ہم نے شام ہوتے ہی جناب عقیل جاوید بٹ سے رخصتی کی اجازت مانگی اور ہم نے جناب عقیل بٹ صاحب سے فیڈریشن کو درپیش مسائل کے حوالے سے بات چیت کی تو ان سے معلوم ہوا کہ فیڈریشن اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مسائل خود ہی حل کرتی ہے اور حکومت کی طرف سے انھیں کسی قسم کی سہولیات یا فنڈنگ کی سہولت حاصل نہیں تو اس بات پہ ہمیں واقعی تشویش ہوئی بہر حال یقیننا حکومت وقت کی ذمہ داری بھی اور فرض بھی کہ وہ دیگر محکموں کی طرح محکمہ کھیل اور کھیل و کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں کے مسائل پہ بھی توجہ دیں تاکہ پاکستانی کھلاڑیوں کی تربیت بہتر انداز و طریقے سے ہو اور وہ دنیا بھر میں فتح کے جھنڈے گاڑ کے ملک پاکستان کا نام روشن کر سکیں تو بہر حال اجازت دوستوں ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

More From Author

یہی دعا ہے کہ

روزنامہ یلغار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے