ہمارا پرچم ہمیشہ بلند ہی رہے

ہمارا پرچم ہمیشہ بلند ہی رہے

یلغار فیصل شامی

اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے اور ہم بھی یقیننا آپ کی دعاوں سے بھلے بھی ہیں چنگے بھی اور بہت اچھے بھی اور یقیننا خوشی کی خبر ہے کہ اگست کا مہینہ ایک دفعہ پھر آن پہنچا اور یقیننا اگست کا مہینہ دنیا بھر کی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور وہ اس لئے کہ اگست کے مہینے میں ہی ہمیں آزادی ملی یعنی انگریزوں کی غلامی سے نجات ملی اور نا صرف نجات ملی بلکہ چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے روز تمام مسلمانوں کو ایک آزاد الگ ریاست ایک اسلامی ملک نصیب ہوا جسکا نام پاکستان رکھا گیا اور یہ آزادی مسلمانوں کو بانی پاکستان محمد علی جناح کی قیادت میں ملی اور مسلمانوں کی دن رات جدو جہد انتھک محنت اور مسلسل قربانیوں سے ہی ایک آزاد وطن حاصل کیا گیا جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا اور یہ بھی بتا دیں کہ آزاد وطن کا مشورہ یعنی تجویز یا یوں سمجھ لیں کہ الگ وطن کا خواب جناب شاعر مشرق جناب علامہ اقبال نے پیش کیا اور جناب علامہ اقبال کے خواب کو اس الگ وطن کے نظرئیے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جناب قائداعظم نے جنھوں نے انگریز سرکار سے الگ وطن کا مطالبہ کیا اور انگریز جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن کو اس بات پہ بھی مجبور کیا کہ وہ مسلمانوں کو آزادی دیں اور یقیننا یہ قائداعظم محمد علی جناح ہی تھے جنھوں نے مسلمانوں کو آزادی دلوانے کے لئے جدو جہد کی اور انکی مسلسل جدو جہد رنگ لائی  اور مادر ملت فاطمہ علی جناح بھی خواتین کے ہمراہ پاکستان بنانے کی جدو جہد میں کسی سے پیچھے نا رہیں اور  ایک لڑائی  لڑی گئی  جسکے نتیجے میں مسلمانوں کو انگریزوں سے نجات ملی مطلب آزادی ملی اور یہ بھی بتا دیں کہ انیس سو انتالیس میں  الہ باد میں آل انڈیا پاکستان مسلم لیگ کے اجلاس میں ایک الگ وطن کے قیام کا مطالبہ پیش کیا گیا اور یہ مطالبہ اتنی شدت سے زور پکڑ گیا کہ ہر بچے بچے کی زبان پہ بھی یہی نعرہ تھا کہ بٹ کے رہے گا ہندوستان بن کے رہے گا پاکستان۔ اور۔ یقیننا پاکستان معرض وجود میں آیا اور ہم آج آزاد فضاء میں آزاد وطن میں اپنی آزادی سے زندگی گزار رہے ہیں اور یہ بھی بتا دیں کہ پاکستان جو ہے اسکی بنیاد جو ہے وہ جناب قائداعظم کے دو قومی نظرئیے پہ رکھی گئی اور وہ دو قومی نظریہ کیا تھا وہ یہ تھا کہ ہندو اور مسلم دو الگ الگ قومیں ہیں جو اکٹھی نہیں رہ سکتی کیونکہ دونوں قوموں کا رہن سہن طور طریقے مزہب الگ الگ ہیں اس لئے مسلمانوں کے لئے الگ وطن ہونا چاہیئے جہاں مسلمان اپنے اللہ پاک کے احکامات کے مطابق  زندگی گزار سکیں . دین اسلام پہ چل سکیں اور اسی دو قومی نظرئے کو بنیاد بنا کے ہی ایک جدو جہد کی گئی اور اس مسلسل جدو جہد کا نتیجہ سب کے سامنے ہے یعنی کہ ہمارا پیارا پاکستان اور دوستوں آج پھر ایک دفعہ آزادی کا مہینہ آن پہنچا اسی لئے تمام پاکستانی خوشی سے جھوم رہے ہیں ناچ رہے ہیں اور آزادی کے ترانے بھی خوب گنگنا رہے ہیں اور اس پر مسرت خوشی کے مہینے اور مبارک دن کے موقع پہ ہماری یہی دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے پیارے وطن پاکستان کو صدا آباد رکھے ہر دم قائم رکھے ہر دشمن کی میلی نظروں سے بچا کے رکھے اور ہم سب پاکستانیوں میں بھی اتحاد و اتفاق پیدا ہو تاکہ ہم سب مشکل وقت میں دشمن کا مقابلہ کر سکیں تو بہر حال اسی دعا کہ ساتھ کہ اللہ پاک ہمیں یونہی ہنستا مسکراتا رکھے اور ہمارے وطن کا پرچم ہمشہ بلند ہی رہے آمین ثم آمین

More From Author

روزنامہ یلغار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے