[30/07/2026, 12:46:09 PM] فیصل شامی چئیرمین عوامی تحفظ کمیٹی تھانہ قائداعظم لاہور:
اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے اور ہم بھی اچھے ہیں اور بھلے چنگے بھی اور یہ بھی بتا دیں کہ ہم تازہ تازہ وفاقی دارالحکومت , ملکہ کوہسار مری اور اور پاکستان سے وابستہ ریاست آزاد کشمیر کے خوبصورت علاقوں کا سفر کر کے واپس لاہور پہنچے ایک ہفتے کا قیام اسلام آباد میں رہا لیکن اس دوران تین راتیں اور چار دن ہم نے مسلسل سفر میں گزاریں اور وہ سفر تھا وادی نیلم کی خوبصورت شاہراہوں کا دریائے نیلم کے کنارے مری سے شاردا تک سفر بہت زبردست بھی رہا ایک طرف دریا تو دوسری طرف پہاڑ اور یقیننا کیا زبردست نظارہ تھا اور ہم یہ بھی بتائے دیتے ہیں کہ وادی نیلم میں ہم نے تین راتیں قیام کیا اور وہ تو اللہ بھلا کرے ہمارے پیارے بھائی اسد خواجہ کا جنھوں نے باڑیاں میں گیسٹ ہاؤس بنا رکھا ہے جو ہم جیسے بن بلائے مہمانوں کے لئے ہی ہے شاید۔ اور ہمارے پیارے بھائی مہمان نواز بھی ہیں اور بالکل ویسے ہی مہمان نواز ہیں جیسے کشمیری عوام اور ہماری ملاقات تقریبا چار سے پانچ سال قبل ہوئی جب ہم پہلی دفعہ وادی نیلم آزاد کشمیر گئے تاہم یہ بھی بتا دیں ک مظفر آباد کسی زمانے میں بہت آنا جانا رہا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب روزنامہ پاکستان اسلام آباد سے شائع ہوا مطلب اشاعت کا آغاز کیا اور یہ بھی بتا دیں کے ناز بٹ ناجی جو مظفر آباد میں نمائندہ پاکستان تھے ان کی وساطت سے مظفر آباد آنا جا نا رہتا تھا اور پھر جناب ناز بٹ ناجی بیرون ملک چلے گئے تاہم کہنے کا مقصد یہ کہ مظفر آباد باغ گڑھی دپٹہ سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقے دیکھے لیکن وادی نیلم کا رخ تقریبا
چار سال پہلے کیا تھا اور اسکے بعد آج تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے اور ہمارا ہر سال اسلام آباد کا پروگرام بنتا ہے اور جب اسلام آباد پہنچ جائیں تو پھر یقیننا ملکہ کوہسار مری کا بھی اور وادی نیلم آزاد کشمیر کا پروگرام بھی بنتا ہے اور یقیننا وادی نیلم بہت ہی خوبصورت علاقہ ہے گو کہ ریاست آزاد کشمیر کا حصہ ہے لیکن کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کشمیر بھر کی دیواروں پہ لکھے نظر آتے ہیں اور وادی نیلم بھی ایل او سی یعنی کنٹرول لائن پہ ہے اور تاؤ بٹ کو کشمیر کی سرحد سمجھ لیں اور سنا ہے کہ تاؤ بٹ بہت ہی خوبصورت علاقہ ہے اور ہم تاحال اس خوبصورت سے علاقے کو دیکھنے سے قاصر ہیں آور محروم سے بھی اور امید ہے کہ آئندہ جب نیلم ویلی کا رخ کریں تو تاؤ بٹ کے بھی نظارے کرکےواپس لاہور آئیں اور ہم تاؤ بٹ نہیں گئے لیکن شاردا تک ضرور گئے ہیں اور شاردا کے بارے میں جو سنا ہے اس کے مطابق شاردا۔ میں ایک یونیورسٹی تھی جو جنوں نے بنائی اور اب سنا ہے وہ ختم ہو گئی ہے لیکن بتانے والے بتاتے ہیں کہ اس یونیورسٹی کی نشانی رہ گئی ہے اور ایک مندر ہے شاردا نیلم ویلی میں وہ بھی جنوں نے بنایا اور شاید اسی جنوں والی یونیورسٹی اور مندر کی وجہ سے ہی شاردا کے قصے دنیا بھر میں مشہور ہیں اور شائد انہی قصوں اور خوبصورتی کے باعث دنیا بھر کے سیاح جو ہیں وہ وادی نیلم کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں گو کہ مظفر آباد سے وادی نیلم تاؤ بٹ۔ کا فاصلہ زیادہ نہیں ہے لیکن پہاڑی رستے کی وجہ سے یہ سفر گھنٹوں کا بن جاتا ہے اور مسلسل۔ سفر کی وجہ سے تھکاوٹ تو ہوتی ہے لیکن مسلسل خوبصورتی دیکھ کے سفر کی تھکاوٹ اتر جاتی ہے اور یہ بھی بتا دیں کے جس طرح سے وادی کشمیر خوبصورت دنیا کا خوبصورت ترین علاقہ ہے بالکل ویسے ہی وادی آزاد کشمیر میں رہنے والے بھی بہت خوبصورت ہیں اور یقیننا کشمیری خوش اخلاق مہمان نواز قوم ہے مہمانوں کی مہمانداری میں کوئی کثر نہیں اٹھا رکھتی اور ہمیں بھی اہل کشمیر کی مہمان نوازی اور خاص کر کشمیری عوام کی پاکستانی عوام سے محبت بھی ہمیں بہت پسند ہے اور شاید یہی سادگی خوش اخلاقی اور پاکستانیوں سے محبت کی ادا ہمیں ہر سال وادی نیلم کی طرف کھینچتی ہے اور ہم بھی کشمیری عوام سے گرفتار محبت میں کشمیر کھنچے چلے آتے ہیں اور اس دفعہ جب اسلام آباد گئے تو وادی نیلم کا پروگرام بھی نا تھا اور اچانک ہی پروگرام بن گیا کشمیر کا اور جیسا کہ بتایا کہ کشمیر میں ہمارے پیارے بھائی اسد خواجہ اور اظہر بٹ ہیں جن کی وجہ سے انجان جگہ میں بھی اپنا پن نظر آتا ہے اور جب کشمیر میں جاتے ہیں تو بے خوف و خطر گھومتے ہیں جیسا کہ اپنا ہی دیس ہو لیکن داد دینی پڑتی ہے ان کشمیری بھائیوں کو جو کنٹرول لائن یعنی بارڈر ایریا پہ رہتے ہیں اور یقیننا جس گیسٹ ہاؤس میں ہم ٹھرتے ہیں وہ باڑیاں میں ہے اور اسد بھائی نے ہی ہمیں بتایا تھا ایک اونچی پہاڑی کی طرف اشارہ کر کے کہ وہ انڈیا کی چیک پوسٹ ہے جو بہت اوپر پہاڑوں میں ہے ایک طرف پاکستان جبکہ دوسری طرف
ہندوستان اور یقیننا یہ ہمت ہی ہے اہل کشمیر کی کہ کنٹرول لائن جہاں پہ ہمہ وقت خطرہ ہی خطرہ رہتا ہے کہ کب نا جانے کیا ہو جائے اور کب کس طرف سے گولہ باری ہو جائے گولی چل جائے کچھ نہیں پتہ اور ہمیں اسد خواجہ نے ہی بتایا کہ کچھ عرصہ قبل بھی دشمن کی طرف سے بے تحاشہ فائرنگ کی گئی لیکن آفرین ہے اور سلام ہمت بھی ان کشمیریوں کو جو موت کے سائے میں بھی ہنس کھیل رہے ہیں اور ہم بتا رہے تھے کہ ہم جس نیلم گرین گیسٹ ہاؤس جو کہ باڑیاں میں ہے۔ وہاں سے ہمیں اپنے کمرے جس میں ہم نے رہائش رکھی کے باہر بالکونی سے۔ ہندوستان کی چیک پوسٹ نظر آتی رہی اور یہ بھی بتا دیں کہ جب ہم نے نیلم ویلی کا رخ کیا تو وادی نیلم میں لاک ڈاؤن تھا۔ ٹورسٹ کا داخلہ بند تھا اور نا ہی انٹرنیٹ سروس بحال تھی جسکا ذکر ہم نے گزشتہ کالم میں بھی کیا کہ اہل کشمیر وائی فائی نہ ملنے سے پریشانی میں مبتلا ہیں اور دنیا بھر سے رابطہ منقطع ہے اور ہم پہلے بھی اس بات کا ذکر ک چکے ہیں اور گزشتہ صبح ہی ہماری واٹس ایپ پہ اسد خواجہ اور اظہر سے بات ہوئی اور ہم نے انھیں مبارکباد دی اور ہنستے ہوئے ہم جواب بھی دیا کہ کالم لکھنے اور خبر لگانے کا فائدہ تو ہوا کہ انٹرنیٹ سروس بحال ہو گئی لیکن ابھی یہ معلوم نہیں کیا کہ ٹورسٹ کا داخلہ کھل گیا ہے کہ نہیں بہر حال بات کر رہے تھے کہ وادی نیلم خوبصورت علاقہ ہے اور اہل کشمیر بھی کشمیر کی خوبصورت کی طرح خوبصورت ہیں اور یہاں پہ یہ بھی بتا دیں کہ جب ہم اس دفعہ آزاد کشمیر پہنچے تو معلوم ہوا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کا زمانہ ہے اور ہر طرف الیکشن کا شور ہے اور جب مظفر آباد پہنچے تو جگہ جگہ ن لیگ کے پوسٹر دیکھے لیکن جب نیلم ویلی میں داخل ہوئے تو جگہ جگہ پیپلز پارٹی کے پوسٹر فلیکس بینر نظر آئے اور معلوم ہوا ہمارے کشمیر کے ہی دوستوں سے کہ مظفر آباد میں ن لیگ کا زور ہے جبکہ نیلم ویلی میں پیپلز پارٹی کا زور ہے ہمارے دوستوں نے ازراہ مذاق یہ بھی کہہ دیا کہ بھٹو آج بھی زندہ ہے اور الیکشن میں گھر گھر سے بھٹو نکلے گا اور بھٹو کی جماعت کو ووٹ دے کے کامیاب کروائے گا اور یقیننا ہم نے بھی شاردا تک سفر کیا تو جگہ جگہ پیپلز پارٹی ہی نظر آئی اور ویسے تو ہم اپنی گاڑی پہ ہی پورا پاکستان گھوم چکے ہیں اور شاید ہی پاکستان کا کوئی علاقہ یا آسا رستہ ہو جس پہ ہم نے سفر نا کیا ہو اور کراچی تک تو ہم خود گاڑی ڈرائیو کر کے گئے ہیں اور اس وقت موٹر وے نہیں تھی لیکن اب موٹر وے بن گئی اس لئے کراچی کا سفر مزید آسان ہو گیا بہر حال بات ہو رہی تھی وادی نیلم کی تو ہم بتا رہے تھے کہ حالیہ سفر میں ہم نے تین راتیں باڑیاں میں قیام کیا اور اس دوران ہم نے خوب جی بھر کے نیلم ویلی کے نظارے لئے اور نا صرف قدرتی نظارے لئے بلکہ ریاست کشمیر میں اس طوفانی مہنگائی کے پر کٹے دیکھے جس نے ہمارے پیارے ملک پاکستان میں تباہی مچائی ہوئی ہے اور یہ بھی بتا دیں کہ سب کشمیری قوم ایک پیج پہ نظر آتی ہے کشمیری قوم میں اتفاق و اتحاد بھی ہے اور نظم و ضبط بھی اور یہی بانی پاکستان کے سنہری اصول ہے ایمان اتحاد یقین محکم اور کشمیری بانی پاکستان کے ہی اصولوں پہ عمل پیرا ہیں گویا جی دوستوں ہم تین دن کشمیر میں رہے کشمیری دوستوں سے کشمیر کے بھی اور اہل کشمیر کے حالات بھی جاننے کی کوشش کرتے رہے اور آزاد کشمیر کے الیکشن متعلق بتا دیں کہ آزاد کشمیر کے پہلے مرحلے میں میر پور میں انتخابات ہوئے جو کہ مار دھاڑ لڑائی جھگڑے سے بھرپور رہے خون خرابہ بھی ہوا اور۔ آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا ن لیگ کامیاب رہی آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں اور اب وادی نیلم میں دوسرے مرحلے میں انتخابات ہونگے جبکہ راولا کوٹ اور باغ وغیرہ میں تیسرے مرحلے میں انتخابات ہونگے بہر حال وادی نیلم میں ہونے والے الیکشن کے متعلق ہمارے دوستوں کا کہنا تھا کہ وادی نیلم میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بے شمار ترقیاتی کام کروائے اس لئے اہلیان وادی نیلم کی ہمدردیاں بھی اور ووٹ بھی پیپلز پارٹی کا ہی ہے اور یقیننا اگر صاف الیکشن ہوئے تو یقیننا پیپلز پارٹی ہی وادی نیلم میں کامیاب ہو گی بہر حال ہم نے اپنے کشمیری دوستوں سے کشمیر ایکشن کمیٹی سے متعلق بھی پوچھا تو کشمیری دوستوں نے بتایا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کی آواز تمام کشمیری قوم کی آواز ہے کشمیری دوستوں کا کہنا تھا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی نا ہی دہشت گرد ہیں نا ہی ریاست کے دشمن ہیں وہ صرف اور صرف اپنے حق کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں اور اگر۔ اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے کو آپ دہشت گردی غنڈہ گردی کا نام دیدیں تو یہ کہاں کا انصاف ہے کشمیری دوستوں کے مطابق کچھ مطالبات کشمیر ایکشن کمیٹی کی طرف سے پیش کئے گئے جن میں سب سے اہم کہ آزاد کشمیر میں مہاجر نشستیں ختم کی جائیں۔ اور انتظامیہ سے جب بات چیت ہوئی تو بارہ میں سے آٹھ مہاجر نشستیں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن۔ تاحال کوئی نوٹیفیکیشن یا معاہدہ نامہ نا لکھا جا سکا اور ہمارے دوست۔ کہہ رہے ہیں کہ کشمیری اپنے حق کی آواز بلند کر رہے ہیں اپنے حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں تو بہر حال دیکھتے ہیں کہ مزید کیا ہو گا آزاد کشمیر دوسرے اور تیسرے مرحلے میں کون کامیابی حاصل کرے گا اور کون حکومت بنائے گا یہ بات بھی وقت ہی بتائے گا تو دوستوں آپ فی الحال کریں انتظار وقت کا اور اس بات کا بھی کہ آزاد کشمیر انتخابات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور آپ کریں بہت سی باتیں جاننے کے لئے وقت کا انتظار لیکن ہمیں دیں فی الوقت اجازت دوستوں ملتے ہیں جلد آپ سے اک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا
