بڑی عید :: صفائی کا بہترین انتظام

امن ایمبیسیڈر

فرحت ناز

عید الضحی بڑی عید
عید قربان پر ہم نے دیکھا کہ پنجاب بھر میں صفائی کا بہت بہترین انتظام کیا گیا۔ مسلسل صفائی کا کام دیکھنے کو ملا۔ کہیں اگر آپ کو تھوری بہت گندگی پر نظر پڑ ہی گئی ہو تو ممکن ہے کہیں اکا دکا ایسا دیکھنے کو مل ہی گیا ہو۔

سو فیصد کوشش ہوتی ہے 90 فیصد کامیابی بھی بہترین کوشش سمجھی جاتی ہے اور سمجھنی بھی چاہیے۔ آیندہ وہ 10 فیصد کمی بھی نہ رہے اس کی بھی کوشش ہونی چاہیے۔ اور دوسری بات تنقید کرنے والوں کی طرف آتے ہیں تو وہ بھی ہمارے اپنے ہی ہیں ہم وطن ہم عقیدہ لوگ ہیں کوئی غیر نہیں ان سے احترام سے کہونگی ک جو بھی کوشش کرے چاہے وہ آپ ہی کیوں نہ ہو آپ کی بھی کوشش سو فیصد ہو گی کمی پیشی آپ سے بھی ہو سکتی ہے اس بات کو ذہن میں رکھ کر اپنی سوچ کو مثبت رکھیں اور ایک پر امن شہری اور خاندانی سلجھے انسان ہونے کا ثبوت دیں۔ بہت خوب مریم نواز (ستھرا پنجاب)۔

اب آتے ہیں قربان کے جانوروں کی طرف۔ تو جناب ہر بار کی طرح اس بار بھی قیمتیں نا صرف آسمان کو چھو رہی تھی بلکہ آسمان پھاڑ کر آگے نکل گئی ہیں۔

کچھ لوگ بڑے بڑے اونٹ، بیل گھروں کو لے کر گئے لوگوں نے واہ واہ کے تو قیمتیں سن کے انگلیاں دانتوں تلے دبا لیں۔ تو کچھ لوگ حسرت سے دیکھتے ہی رہ گئے۔

لوگ نمائشی انداز میں اپنے جانوروں کو اٹھلاتے ہوا میں نظر آئے تو کہیں لوگوں نے خوبصورت ترین مہنگے بکروں کو ہاتھ ڈالا اور لوگوں سے داد وصول کی بچوں بڑوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں، گھر بھر میں رونقیں دوبالا ہو گئیں۔ بہت سے لوگوں نے فریضہ قربانی ادا کرنے کی دلفریب کوشش کی۔

اس کے سنت ابراہیم کو انجوائے کیا اور رضائے الٰہی حاصل کی ۔ بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو چاہتے تھے کہ سنت ابراہیم کو ادا کرے بچوں کی ننھی معصوم اور بڑوں کی مسکراہٹ کی وجہ بنے مگر نہ کر سکے ۔ حالات اور وصایل آڑے اگئے۔ معصوم بچے دوسروں کے جانوروں کو دیکھ کر حسرت کے ساتھ خاموش ہو گئے ۔اپنے مجبور باپ کو بلک بلک کر مناتے رہے مگر مجبور باپ چاہنے کے باوجود بھی منڈی جانے کی ہمت نہ کر سکا۔ پوری دنیا میں تہواروں پہ چیزوں کو سستا جبکہ یہاں عید قربان پہ جانوروں کی قیمتیں بڑھانے پہ زور دیا جاتا۔

چلے چلے عید قربان کے پر رونق منظر کی طرف آتے ہیں ۔ جہاں قربانی کے جانوروں کی رونق رہی وہی قربانی کے گوشت نے گھر گھر خوشیاں بکھریں ۔
کباب
پائے
مندی
کڑاہی
خواتین و مرد طرح طرح کے پکوان بنانے اور کھلانے میں مشغول رہے۔ اپنے عزیز و اقارب اور غربا میں گوشت کی تقسیم
بچوں اور بڑوں نے رنگارنگ لباس زیب تن کیے۔
خوشبوں اور سولا سنگھار نہایت خوبصورت پہچان، خواتین نے عید کو مزید حسین کر دیا۔
بس درخواست اتنی سی ہے کہ اس خوبصورت دن کا آغاز اذکار الٰہی اور اس کے محبوب کے سنت اور سنت ابراہیم کی داستان سنا کر کیا جائے۔

قانون بھی اور اصول بھی پھر اس کے بعد عید کے لوازمات کو خوش و خرم مہکتے چہکتے منائیں۔
دعاؤں میں یاد رکھیں اور دعاؤں میں رہیں۔
اللہ نگہبان!

More From Author

روزنامہ یلغار

فیصل آباد پولیس گردی شہری پہ 9 سی کا جھوٹا پرچہ دے دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے