اچھی خبر یہ بھی ہے

اچھی خبر یہ بھی ہے

یلغار۔ فیصل شامی

اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے اور اچھی خبر یہ بھی ہے کہ عید قرباں کی آمد آمد ہے اور عید قربان جو ہے جسے بڑی عید کہتے ہیں اور بڑی عید تمام امت مسلمہ جو ہے وہ سنت ابراہیمی ہے اور ہم سب مسلمان عید قرباں پہ سنت ابراہیمی کی ادائیگی کا خوب زور و شور سے اہتمام کرتے ہیں اور اس موقع پہ سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے موقع پہ ہم مسلمان بکرے اونٹ گائے دنبہ و دیگر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور قربانی کا سلسلہ تین دن تک جاری رہتا ہے اور اگر دیکھا جائے سوچا جائے اور سمجھا جائے تو قربانی ہمیں ایثار محبت و بھائی چارہ کا درس بھی دیتی ہے اور قربانی کے بھی تین حصے رکھنے جاتے ہیں جس میں غریبوں مسکینوں کا بھی حصہ رکھا گیا ہے اور قربانی کی حقیقی خوشی بھی یہی ہے کہ ایس افراد کی خوشیوں کا بھی خیال رکھیں۔
اور یقیننا بحثیت مسلمان ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ حسب توفیق قربانی کریں لیکن آج کے ماڈرن دور میں سب کے لئے قربانی کے لئے جانور خریدنا بھی انتہائی۔ مشکل ہو چکا ہے اور اطلاعات کے مطابق قربانی کے لئے فروخت کئے جانے والے جانور مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں اور مہنگے داموں جانور خریدنا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے اور اگر دیکھا جائے تو دنیا بھر میں کوئی بھی تہوار ہوتا ہے تو دنیا بھر کے لوگ جو ہیں وہ عام عوام کے لئے اشیائے ضروریات زندگی سستی کر دیتے ہیں لیکن ہمارا ملک شائد دنیا کے ان چند انوکھے ممالک میں سے ہے جہاں کسی بھی خوشی یا تہوار کے موقع پہ اشیاء مہنگی کر دی جاتی ہیں اور۔ ہم نے۔ تو قربانی کے تہوار کو باقاعدہ کاروبار بنا لیا ہے اور مہنگے داموں جانوروں کی خرید و فروخت کرتے ہیں جانور بیچنے والے جو ہیں وہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں اور یقیننا حکومت کے لئے لازم بھی ہے اور فرض بھی کہ عوام کو عید قرباں کے موقع پہ مہنگے جانور بلکہ بیمار جانور فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی سخت ترین کاروائی کرے اور حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ عام غریب عوام کو عید کے موقع پہ خوشیاں حاصل کرنے کا موقع دے اور یقیننا حکومت کی طرف سے عام غریب عوام کے لئے خصوصی اجتماعی قربانی کا اہتمام کیا جائے وہ بھی بغیر کسی معاوضے کے یعنی مفت اور اگر حکومت عوام کو عید کی خوشیوں میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرے گی تو یقیننا غریب عوام کے دلوں سے حکومت کی کامیابی اور مضبوطی کے لئے بھی دعا نکلے۔ گی تو بہر حال اجازت دوستوں ملتے ہیں جلد اک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

More From Author

کوئٹہ دھماکہ

روزنامہ یلغار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے