ازقلم: یسرا امانت
(پھر میں مست ہوا)
مست ہوا برباد ہوا عشق کا کلمہ یاد ہوا۔پھر ہوا کہ میں نے اپنے آپ کو ہر اس چیز سے آزاد کر دیا جس نے میری خواہشات کو دبا رکھا تھا، جس نے میرے ذہنی سکون کو برباد کر رکھا تھا، جس نے مجھے لوگوں پر ڈپینڈ کر رکھا تھا، جس نے مجھے پریشانیوں میں اُلجھا رکھا تھا پھر میں آزاد ہوا، اور پھر میں مست ہوا۔ اس مست ہونے سے مراد بے غم ہو جانا ہے۔ جس انسان کو نہ کوئی غم رہے، نہ کوئی ڈر رہے، تو پھر وہ انسان مست ہو جاتا ہے۔ اپنی مستی میں، اپنے آپ میں، اسے صرف خوفِ خدا ہوتا ہے۔ اسے صرف اور صرف اپنے خدا کی سوچ ہوتی ہے۔ اپنے خدا سے عشق ہو جاتا ہے۔ اس انسان کے لیے دنیا کی محبت اور دنیا کا عشق فضول ہو جاتا ہے۔ وہ بس اپنے خدا کے لیے ہوتا ہے اور اسے بس خدا چاہیے ہوتا ہے۔ اور پھر وہ مست ہو جاتا ہے، آزاد خیال ہو جاتا ہے یہ آزادی کوئی عام آزادی نہیں ہے، اور یہ آزادی ہر کسی کو مل نہیں سکتی۔ اس آزادی کو حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنے خدا کا ہونا پڑتا ہے، اور اپنے خدا کی رضا میں راضی ہونا پڑتا ہے۔ اور پھر انسان مست ہو جاتا ہے۔ دنیا کی محبت سے نکل کر، لوگوں کی سوچوں سے نکل کر، انسان بے غم ہوتا ہے اور آزاد ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنی ذات پر لگا ہر درد، تکلیف بھول جاتا ہے، اور ہر اس بات کو بھی بھول جاتا ہے جس نے اسے ناکامی کی راہ پر لا کر ذلیل کیا ہوتا ہے۔ وہ اس مستی میں اتنا مست رہنے لگ جاتا ہے کہ وہ بس یہی بولتا رہتا ہے:
"اے میرے پروردگار! تو نہ ہوتا تو سب ختم ہوتا۔” بس شکر ادا کرتا رہتا ہے اپنے خدا کا کہ اگر تو نہ ہوتا تو تا تو کچھ نہ ہوتا

