پریشان ہیں بہت سے دوست ہمارے

پریشان ہیں بہت سے دوست ہمارے بھی

یلغار۔ فیصل شامی

اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں

کیسے

ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے اور ہم

بھی یقیننا اچھے ہی ہیں لیکن ہمارے

بہت سے دوست جو ہیں وہ۔ اچھے سے

نظر نہیں آ رہے اور ان اچھے سے نظر نا

آنےوالے دوستوں میں بیشتر

سینما و تھیٹر مالکان ہیں جی دوستوں

اور سینما اور تھیٹر مالکان جو ہیں وہ

اس وجہ سے پریشان ہیں کے حکومت کی

طرف سے اسمارٹ لاک ڈان کا اعلان کر دیا

گیا اور ہمارے بہت سے دوست اسی وجہ

سے پریشان ہیں کہ تھیٹر عوام کی تفریح

کا ذریعہ ہیں اور عوام رات گئے تھیٹر میں

جاتی ہے اور تفریح حاصل کرتی ہے لیکن

اب حالات یہ ہیں کہ حکومت کی طرف سے

اسمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تھیٹر کی

رونقیں گویا ختم سی ہو گئی اور نا

صرف تھیٹر کی رونق ختم ہو گئی بلکہ

تھیٹر سے وابسطہ افراد کے گھروں کے

بھی چولہے ٹھنڈے پڑ گئے اور گزشتہ روز

ہماری بہت ہی پیارے بھائی مومی سے

ملاقات ہوئی اور مومی سے مراد معمر

رانا ہیں جو کہ کسی تعارف کے محتاج

نہیں معمر رانا جسے ہم سب پیار سے

مومی کہتے ہیں آج بھی نا صرف

پاکستان بلکہ دنیا بھر کے عوام کی پسند

ہے یقیننا معمر رانا اک ایسا اداکار ہے

جس نے پاکستانی سینما کی ڈوبتی

ہوئی کشتی کو سہارا دیا ہوا ہے اور

معمر رانا ہی وہ واحد اداکار ہے جو تین

سو سے زائد فلموں میں کام کر چکا ہے اور

ہمارے بہت سے دوستوں کا کہنا ہے کہ

معمر رانا کو بھی صدارتی تمغہ حسن

کارکردگی ملنا چاہیئے اور یقیننا۔ معمر

رانا کی پہچان چوڑیاں فلم کے بختو سے

ہے اور یہ بھی بتا دیں کہ مومی سے ہمارا

دوستانہ بہت پرانا بھی ہے اور گہرا بھی

مومی انتہائی ہنس مکھ سب سے پیار

کرنے والا اور سب سے بڑھکر یہ کہ فلم

انڈسٹری میں کام کرنے والے افراد سے

بھی پیار کرتا ہے اور بہت سے

ضرورتمندوں کی مدد بھی کرتا ہے اور

مومی بھی آجکل اسٹیج کی دنیا کا رخ

کر چکا ہے اور تھیٹر و اسٹیج پہ بھی

مومی بالکل ویسے ہی راج کر رہا ہے

جیسے مومی فلم انڈسٹری پہ کر رہا ہے

اور مومی سے جب گزشتہ روز کلب میں

ملاقات ہوئی تو ہم نے پوچھ ہی لیا کہ

مومی بھائی سنائیں کیسا چل رہا ہے

آجکل اسٹیج ڈرامہ اور ہماری یہ بات سن

کے کہ کیسا چل رہا ہے اسٹیج ڈرامہ تو یو

لگا کہ مومی بھی یہ سوال سن کے بالکل

ویسے ہی پریشان ہو گیا جیسے ہم نے

جب شبستان سینما کے ڈائریکٹر ذیشان

خان سے پوچھا تھا کہ کیا حالات ہیں

تھیٹر کے تو ذیشان خان جنھیں سب پیار

سے چندا کہتے ہیں نے ہمیں مسکراتے

ہوئے کہا کہ ہم نے رٹ دائر کر دی ہے

انشاء اللہ جلد ہی بہتری ہو گی لیکن

اسکے برعکس جب مومی سے یہی پوچھا

تو مومی غمگین سا نظر۔ آنے لگا اور کہا

کہ تھیٹر تباہ ہو گیا فلم کوئی بن نہیں

رہی۔ اور یقیننا مومی کا کہنا ٹھیک ہی

تھا کہ ایک ٹرینڈ بن گیا ہے کہ لوگ کام

کاج سے فارغ ہو کے گھروں سے نکلتے ہیں

تفریح کرتے ہیں اور تھیٹر کا ٹائم ہی رات

دس بجے کے بعد شروع ہوتا ہے لیکن جب

سے اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا ہے یوں

سمجھیں کہ گویا تھیٹر بند ہو چکے ہیں

تھیٹر پہ بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ

سے تباہ ہو چکا اور تھیٹر پہ کام کرنے

والے افراد کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے اور

انکے بچے بھوک سے بلک گئے اور یقیننا

افسوسناک بات ہے اور ہمارے بہت سے

دوست کہہ رہے ہیں کہ جس طرح

اسپورٹس ایسوسی ایشنز کو اسمارٹ

لاک ڈاؤن سے استثنی دیا گیا ہے بالکل

ویسے ہی سینما و تھیٹر مالکان کو بھی

استثنی قرار دیا جائے تاکہ نا صرف

تھیٹر کی رونقیں بحال ہو سکیں بلکہ

ہزاروں متاثرین مزدوروں کے گھروں کا

چولہا جل سکے اور اگر دیکھا جائے تو ہم

سب ہی مزدور ہیں کوئی ہماری طرح قلم

کا مزدور تو کوئی دیہاڑی دار مزدور تو

کوئی اسٹیج پہ اپنے اندر کے غم کو مٹا

کے دنیا بھر کو ہنسانے والا مزدور جی

دوستوں اسٹیج پہ کام کرنے والے بھی

ہماری طرح مزدور ہیں اور افسوسناک

بات ہے کہ حکومت وقت کے فیصلے سے

تھیٹر میں کام کرنے والے مزدور بھی اور

اداکار بھی سب ہی پریشان ہیں اور انکی

پریشانی کا واحد حل یہی ہے کہ جس

طرح سے اسنوکر کلبوں اور جم وغیرہ کو

لاک ڈاؤن سے استثنی دیا گیا بالکل ویسے

ہی اسٹیج و تھیٹر مالکان کو استثنی دیا

جائے تاکہ رات گئے عوام کو ہنسانے والوں

کے چہرے نا مجھا سکیں اور ہم بھی

تھیٹر و سینما مالکان کی سفارش کرتے

ہیں حکومت وقت سے کہ خدارا تھیٹر

مالکان کو بھی رات گئے ڈرامہ پیش کرنے

کی اجازت دی جائے تاکہ انکا روزگار بحال

ہو سکے اور پریشانی و غم کے ستائے

عوام کو تفریح بھی حاصل ہو سکے تو

بہر حال اجازت پارے پارے دوستوں ملتے

ہیں جلد۔ اک بریک کے بعد تو چلتے چلتے

اللہ نگھبان رب راکھا

More From Author

لاہور جم خانہ۔ ون فریم اسنوکر ٹورنامنٹ سعد رانا نے جیت لیا بلال شاہ کو شکست

روزنامہ یلغار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے