- اسلام آباد (بیورو رپورٹ ) پاکستان مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر و وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، سکیورٹی فورسز پر حملے، سیاسی و سماجی شخصیات اور علماء کرام کی ٹارگٹ کلنگ انتہائی تشویشناک ہے، جس کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے قلم چھوڑ ہڑتال ایک انتہائی افسوسناک اور عوام دشمن اقدام ہے، جس سے صحت، تعلیم اور انتظامی امور بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے صدر و کوآرڈینیٹر برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل انتخاب خان چمکنی کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری بلال محمدزئی، عبدالباسط اور سینئر رہنما ریاض خان بھی شامل تھے۔اس موقع پر انتخاب خان چمکنی نے وفاقی وزیر کو صوبے کی مجموعی سیاسی، انتظامی اور امن و امان کی صورتحال سے تفصیلی آگاہ کیا۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ اگر حکومتیں خود احتجاج کا راستہ اختیار کریں تو عوام اپنی داد رسی کیلئے کس دروازے پر جائیں؟ حکمرانی کا بنیادی تقاضا ریاستی نظام کو چلانا، عوامی مسائل حل کرنا اور اداروں کو فعال رکھنا ہے، نہ کہ ہڑتالوں کے ذریعے نظام کو مفلوج کرنا۔انہوں نے مزید کہا کہ قلم چھوڑ ہڑتال جیسے اقدامات وقتی سیاسی دباؤ تو ڈال سکتے ہیں، تاہم طویل المدتی طور پر یہ بیڈ گورننس اور کمزور پالیسی سازی کی علامت بن جاتے ہیں، جس سے عوامی اعتماد اور ریاستی اداروں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ صوبائی حکومت اپنے آئینی کردار کو ذمہ داری کے ساتھ ادا کرے اور مذاکرات، مؤثر پالیسی سازی اور فعال انتظامی اقدامات کے ذریعے مسائل کا حل نکالے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانی کا تقاضا احتجاج نہیں بلکہ مؤثر قیادت، سنجیدہ طرز حکمرانی اور بروقت فیصلے ہیں۔

