قصہ مختصر ہمارے سفر کا
فیصل شامی
یلغار
اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے اور ہم بھی یقیننا بہت اچھے بھی ہیں اور بھلے چنگے بھی اور یہ بھی بتا دیں کہ چھٹیاں ختم ہو گئیں مطلب بچوں کے اسکول کھل گئے اور بچوں کی پریشانی شروع ہو گئی گویا لیکن اگر دیکھا جائے تو بچوں کے والدین نے بھی سکھ کا سانس لیا کہ بچوں کے اسکول کھل گئے اور بچوں کی تو چھٹیاں ختم ہوئیں اور اسکے ساتھ ہی ملکہ کوہسار مری میں بھی جاری سیزن کا اختتام ہو گیا۔ بتاتے چلیں کے مری میں سیزن کا مطلب ہے مقامی افراد کی کمائی اور سیاحوں کی
جیب خالی اور مری میں جب سیزن ہو تو سیاحوں کا بھرپور رش ہوتا ہے اور اس قدر رش ہوتا ہے کہ یوں سمجھ لیں کہ گویا تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی اور یہ بھی بتا دیں کے مری میں دو سیزن ہیں ایک تو گرمیاں ہیں جب بچوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں اور دوسرا سال کے آخری مہینوں میں یعنی نومبر دسمب اور نئے سال کا پہلا ہفتہ بھی مری کے سیزن میں شامل ہوتا ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ملکہ کوہسار۔ مری اور ارد گرد مقامات پہ سفید چادر سی تنی نظر آنے لگتی ہے اور یہ سفید چادر برف ہے جو مری اور ارد گرد علاقوں میں آسمان سے گرتی ہے اور برف باری کے موسم میں بھی نا صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے عوام مری کا رخ کرتے ہیں اور برف باری سے بھی اور زمین پہ گری برف سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور مری کے مقامی افراد کمائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اسی لئے مری کے مقامی افراد جب برف پڑتی ہے تو وہ برف سے مختلف قسم کے جانور اور کارٹون وغیرہ بنا لیتے ہیں جو کہ بچوں کے بھی خوب تفریح کا ذریعہ بنتی ہے اور بچے برف سے بنے ہاتھی گھوڑے وغیرہ پہ بیٹھ کے نا صرف کھیلتے ہیں بلکہ تصویریں بھی بناتے ہیں اور بچوں کی بنائی گئی ایک تصویر کی قیمت سو سے تین سو روپے تک وصول کی جاتی ہے اور ہم بات کر رہے تھے مری میں سیزن کی بچوں کی اسکولوں سے چھٹیاں ہو گئیں اور مری میں سیزن اختتام پزیر ہوا اور جب مری میں سیزن اختتام پذیر ہوا تو اس روز اتوار تھا اور خوب رش بھی تھا اور ہم بھی اتوار کے روز مری سے لاہور واپس پہنچے اور وہ اس لئے کہ بچوں کے اسکول کھل رہے تھے اور اسی وجہ سے ہم واپس لاہور پہنچے اور ہمارا یہ مختصر ترین دورہ تھا اور ایمرجنسی بھی اور اس مختصر دورے میں ایک رات اسلام آباد قیام کیا اور دوسرے دن اسلام آباد سے مری پہنچے ایک رات مری میں قیام کیا اور جب ہم مری پہنچے تو اس روز ہفتے کا دن تھا اور ہفتے کی رات مری میں گزارنے کے بعد اگلے روز اتوار کو لاہور پہنچے اور طویل عرصے بعد گاڑی خود ڈرائیو کی اور ایک وقت تھا بہت شوق رکھتے تھے کالج کے دنوں میں گاڑی چلانے کا لیکن پھر آہستہ آہستہ
یہ شوق کم ہوتا گیا اور اس کی یقیننا یہی وجہ ہے کہ شہر لاہور سمیت ہر شہر میں اس قدر ٹریفک ہے کہ گاڑی چلانے کا دل ہی نہیں کرتا اور۔ اس دفعہ بہت عرصے بعد۔ گاڑی چلائی اور خوب لانگ ڈرائیو بھی ہو گئی اور۔ یہ بھی بتا دیں کہ اسلام آباد جب بھی جاتے ہیں موٹر وے سے ہی جاتے ہیں اور موٹر وے پہ سفر کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو یاد بھی کرتے ہیں اور دعائیں بھی دیتے ہیں جنھوں نے شہریوں کے لئے سفر کرنے کو ایک اچھی اور صاف ستھری معیاری سڑک فراہم کی اور نا صرف یہ بلکہ موٹر وے بنا کے ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کئے اور یہ بھی بتا دیں کہ مری بھی ہمارا آنا جانا اس وقت سے ہے جب ہم بچے تھے اور اسکول میں پڑھتے تھے اور زیادہ تر آغا افتخار حیدر کے ساتھ ہی مری جاتے تھے یہ بھی بتا دیں کہ بہت سی حسین یادیں بھی ہیں مری میں ہماری جو کہ ہمارے بچپن اور زمانہ کالج کی ہیں اور۔ انہی یادوں میں ایک یاد۔ تاج۔ محل ہوٹل مری بھی ہے جہاں ہم نے زندگی کا بہت طویل عرصہ گزارا اور تاج محل ہوٹل مری جی پی او چوک پہ واقع ہے جو کہ اب ہے سے تھا ہو چکا مطلب کے ٹوٹ پھوٹ چکا اور ہمیں یاد ہے محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کا ایک تاریخی جلسہ ہوا اور ہم نے تاج محل کے کمرے سے بیٹھ کے جلسہ لائیو دیکھا جو کہ آج بھی یاد ہے اور وہ خوشگوار لمحات بھی یاد ہیں جو ہم نے تاج محل میں گزارے اور متعدد بار جناب ڈاکٹر یونس بٹ صاحب جو کہ معروف کالم نگار ہیں انکے ساتھ بھی رہنے کا اتفاق ہوا اور جناب یو۔نس بٹ نے ہمارے ساتھ سفر کے دوران اپنی کئی کتابیں بھی لکھی۔ اور میں انھیں لکھتا دیکھتا رہتا تھا اور جناب یونس بٹ کی چند کتابیں تاج محل ہوٹل میں ہی لکھی یقیننا مری پاکستان کا وہ خوبصورت شہر ہے جہاں دل کو سکون ملتا ہے روح کو قرار ملتا ہے اور ہم بھی اسی دل و روح کے سکون و قرار کے لئے مری کا رخ کرتے ہیں اور اس دفعہ بھی سکھ چین حاصل کرنے کے لئے مری پہنچے اور اس دفعہ جب مری پہنچے تو دیکھا کہ مری شہر میں بہت سی عمارات اور دکانیں مسمار کر دی گئی تھی جو کہ کئی سالوں پرانی تھی جنھیں ہم بچپن سے ہی دیکھتے آ رہے ہیں اور انہی مسمار ہونے والی دکانوں اور ہوٹلز میں ہماری حسین یادوں سے بھرا پیارا پیارا تاج محل ہوٹل بھی تھا جو کہ کسی زمانے میں ہمارے پیارے تایا جان جناب رضاء الرحمان شامی صاحب مرحوم کے بزنس پارٹنر جناب صداقت شاہ صاحب نے بنوایا اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہی بنا اور ہم یقیننا سب خاندان کے لاڈلے ہیں اور سب ہم سے خصوصی پیار و شفقت رکھتے ہیں اور یہی پیار و شفقت مرحوم تایا رضا شامی بھی رکھتے تھے جب ہم نے لاہور جھوڑا تو۔ سب سے پہلے اپنے تایا جان مرحوم کے گھر ہی رہتے تھے اور وہ ہم سے بے حد پیار کرتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ ہم اکثر تایا جان مرحوم کے ساتھ بھی مری کی سیر کرنے کئی دفعہ گئے تھے اور پہلی بار موٹر وے پہ بھی مرحوم تایا جان کے ساتھ ہی سفر کیا صداقت شاہ صاحب جو کہ ہمارے تایا مرحوم کے بزنس پارٹنر تھے انھوں نے مری میں رہائش رکھی تھی اور وہ اس لئے کہ وہ مر ی میں ہوٹل بنا رہے تھے اور ہم بھی اکثر مری جب جاتے تو جناب صداقت شاہ صاحب کے پاس ہی رہتے تھے اور تاج محل ہوٹل کو اپنی نظروں کے سامنے بنتے بھی دیکھا۔ فروخت ہوتے ہوئے بھی دیکھا اور حکومت پنجاب کی طرف سے مسمار کئے جانے کے بعد ہوٹل تاج محل کا ملبہ بھی اپنی آنکھوں سے ہی دیکھا اور بہت ہی افسوس بھی ہوا اور ہم نے مری کے مقامی افراد سے مری میں حکومت کی طرف سے توڑ پھوڑ کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو مقامی افراد نے بتایا کہ حکومت نے نئے ہوٹل اور جدید طرز کے شاپنگ سنٹر بنانے کے لئے مسمار کر دئیے ہیں اور تعمیراتی ٹھیکہ کسی غیر ملکی کمپنی کو دیا ہے اور عمارات مسمار ہونے کی وجہ سےہزاروں لوگوں کا روزگار تباہ ہو گیا اور حکومت کی طرف سے تاحال کسی کو بھی توڑ پھوڑ کا کسی قسم کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا اور نا ہی متبادل روزگار فراہم کیا گیا ہے اور یہی مری کے مقامی افراد کا حکومت سے شکوہ ہے اور یقینا حکومت کا کام ہے کہ عوام کے مسائل کو حل کرے ہر قسم کی سہولت مہیا کرے بہر حال مری میں ایک روز کا مختصر قیام ہوا جو کہ ہوٹل 44 میں ہوا جہاں ہمارے پیارے بھائی ندیم دولتانہ سپر وائزر ہیں اور ہم سے خصوصی محبت بھی رکھتے ہیں اسی محبت کی وجہ سے ہمیں خصوصی رعایتی قیمت پہ کمرہ کرائے پہ دیا اور یقیننا مری میں ہمارا قیام مختصر تو تھا لیکن زبردست موسم نے ذہن و دماغ کو تر و تازہ کر دیا تھا اور ایک رات مختصر قیام کے بعد ہم مری سے نکلے اور اتوار کے روز تقریبا بار ہ بچے کے قریب مری کو الوداع کہا اور مری سے نکلنے سے پہلے کشمیر پوائنٹ پہ عبداللہ صاحب نے گھوڑے کی سواری کا لطف اٹھایا اور اسکے بعد ہم نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور تقریبا ایک بجے کے قریب مری سے روانہ ہوئے اور براستہ اسلام آباد موٹروے پہ سفر کرتے ہوئے شام کو آٹھ سے نو بجے تک لاہور پہنچے تو مصطفی اور اسد صاحب نے ہمارا استقبال کیا اور یقیننا مری سے لاہور طویل سفر تھا لیکن خوشگوار رہا اور ہم بخیریت و عافیت لاہور پہنچ گئے اور لاہور پہنچے تو تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی اور لمبے سفر کے بعد تھکاوٹ ہی ہوتی ہے اور اسکے بعد آرام ہی بنتا ہے تو ہم نے بھی آرام کرنے کی ٹھان لی۔ اور بستر پہ لیٹ گئے اور کروٹیں بدلتے کب آنکھ لگی معلوم ہی نا پڑا تو یہ تھی دوستوں ہمار ے مختصر سفر کی داستان تو فی الحال ہم چاہینگے اجازت آپ سے دوستوں تو ملتے ہیں جلد بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا






