ہم زندہ دل قوم ہیں
یلغار فیصل شامی
جی دوستوں ہم پاکستانی قوم ہیں اور زندہ دل بھی ہیں اور سیانے بیانے وی اور دماغ کے اتنے تیز ہیں کے دنیا بھر دنگ رہ جاتی ہے پاکستانیوں کی عقل کو دیکھ کے اور ہر فن مولا بھی لیکن فرق یہ ہے کہ ہم پاکستانی قوم الٹے سیدھے کاموں میں ماہر ہیں اور تو اور نوسر بازی میں بھی ہم پاکستانی کسی سے کم نہیں اور ہر وقت کہیں نا کہیں کوئی نا کوئی کسی دوسرے کو لوٹنے کے طریقے ڈھونڈ ر رہے ہوتے ہیں اور یقیننا آج کل کا دور بھی ایسا ہی ہے کہ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے اور یقیننا ایک وقت تھا جب لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے آپس میں اتفاق رکھتے تھے لیکن آج آج ہم نئی نئی اسکیمیں لڑا رہے ہیں سوچتے ہیں کہ راتوں رات امیر کیسے بن جائیں اور اب تو سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور آج کے دور میں آن لائن فراڈ کا رواج زوروں پہ ہے اور کچھ عرصہ قبل ہمارے ساتھ بھی یہ حرکت ہو چکی ہے ہوا کچھ اس طرح کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بجتی ہے ہیلو کیا تو آواز سی کانوں کو سنائی دیتی ہے جو کہ اس طرح سے تھی آپ کا پارسل آیا ہے پوچھا کہاں سے آیا تو جواب ملا کے سپریم کورٹ سے پارسل ہے رسیو کر لیں مجھے ہنسی آ گئی کہ میرا کونسا پارسل آ گیا اور مجھے مزید کہا گیا کہ آپ کو پن کوڈ آ رہا ہے وہ آپ بتائیں اور اسی وقت ہمارے موبائل پہ او ٹی پی یعنی ون ٹائم پاس ورڈ موصول ہوا اور دوسری طرف سے کہا گیا کہ نمبر کیا ہے ہم نے نمبر بتا دیا اور جیسے ہی نمبر بتایا ہمارا واٹس ایپ ہماری پہنچ سے باہر ہو گیا مطلب کے ہیک ہو گیا اور ہمیں سمجھ آ گئی کہ نوسر بازی ہو گئی اور عین اسی وقت دماغ نے کام کیا اور فوری طور سے اپنے موبائل سے واٹس ایپ کو ڈیلیٹ کیا اور دوبارہ انسٹال کیا اور ہم نے فوری وقت پہ انسٹال کر کے اپنی قیمتی معلومات بھی بچا لی اور واٹس ایپ ہیکر کو بھی پتھر سے جواب دے دیا یہ بھی بتا دیں کہ یہ ہیکر جو ہیں وہ واٹس ایپ ہیک کرتے ہیں اور آپ کے دوستوں و عزیز و اقارب کی خفیہ بات چیت کو اور معلومات کو حاصل کرتے ہیں اور واٹس ایپ کے ذریعے آپ کے قریبی دوستوں کے نمبروں پہ رابطہ کر کے پیسے مانگتے ہیں اور ہمارے بہت سے دوستوں کے ساتھ اس قسم کے واقعات پیش آ چکے ہیں کہ عوام کو بے وقوف بنا کے واٹس ایپ ہیک کیا جاتا اور لوٹا جاتا ہے اور لوٹ مار کا سارا کام آن لائن ہوتا ہے اور بتا دیتے ہیں کہ کسی دوست کا واٹس ایپ ہیک ہو جاتا ہے تو پریشان نا ہوں بلکہ اپنا واٹس ایپ ریمو کر کے دوبارہ انسٹال کر لیں تو واٹس ایپ آپ کی دسترس میں ہی رہے گا تو بہر حال بات ہو رہی تھی لوٹ مار کی تو کچھ روز قبل ایک لوٹ کا واقعہ پیش آیا اور یہ لوٹ بھی آن لائن ہوئی اور ایسا حیران کن طریقہ استعمال کیا گیا شہری کو لوٹنے میں سوچ کیا عقل بھی دنگ رہ جائے اور یہ واقعہ جو ہے قصور شہر کے قربان علی نامی شہری جو کہ روزگار کے سلسلے میں لاہور میں رہائش پذیر ہے کے ساتھ پیش آیا اور اسکے ساتھ بھی آن لائن فراڈ ہوا اور ہمیں قربان نامی شہری نے بتایا تھا کہ گزشتہ دنوں اس نے آن لائن سامان منگوایا اور کچھ دنوں بعد جو سامان لے کے آنے والے تھے انھوں نے قربان نامی کو فون کیا کہ ہماری گاڑی پولیس نے پکڑ لی ہے اور ہمیں مال چھڑوانا ہے ہمارے بندے پکڑے گئے ہیں اور پولیس کو سامان میں آپ کا بھی سامان ملا ہے اس لئے آپ ڈیڑھ لاکھ روپے بھیج دیں اور پیسے لینے والے نے اپنا نام ساجد حسین بتایا اور بتایا کہ وہ تھانہ صدر اوکاڑہ میں تعینات ہے اور ساتھ ہی دھمکی بھی دی اورکسٹم آفیسر ظاہر کیا اس دھمکی سے قربان نامی پریشان ہو گیا اور اس نے بغیر سوچے سمجھے ڈیڑھ لاکھ روپے ایزی پیسہ جاز کیش کروا دئیے اور وہ شائد اس لئے کہ نو سربازوں نے اس کو ڈرانے کے لئے کچھ ویڈیوز بھیجی تھی جس میں گاڑی پکڑی ہوئی دکھائی گئی تھی جبکہ دوسری ایک اور ویڈیو میں پولیس والے کسی پہ ڈنڈوں۔ سے تشدد کرتے نظر آ رہے تھے اور شاید اسی وجہ سے قربان نامی نے پیسے بھیج دئیے کہ کہیں کوئی مصیبت گلے نا پڑ جائے اور اس شہری کی کہانی سننے کے بعد ہم نے اوکاڑہ میں پیارے بھائی ضیاء شیخ کو کہا کہ وہ ساجد سے متعلق معلومات حاصل کریں اور پھر شیخ صاحب جو اوکاڑہ میں ڈسڑکٹ رپورٹر ہیں نے بتایا کہ تھانہ صدر میں کوئی ساجد حسین جسکا نمبر
0320 0683200
ہے
اور یہ ڈی جی خان کا ہے فراڈ ہے اور اس نوسر باز نے پولیس کی وردی میں ڈی پی لگا رکھی ہے اور اسی وجہ سے عام عوام ڈر جاتی ہے اور نوسر بازوں کو موقع مل جاتا ہے اور یہی حیران کن بات ہے نو سر باز سر عام عوام کو لوٹ رہے ہیں اور لوٹنے والوں کے ہزاروں رنگ ہیں لیکن کوئی کاروائی نظر نہیں آتی اور یقیننا ایسے نو سر بازوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیئے اور ایسے نوسر بازوں کو تو قرار واقعی سخت سے سخت سزا ملنی چاہیئے اور اب دیکھتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے نوسر بازوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جا سکے گی یا نہیں یہ بات بھی وقت ہی بتائے گا اور سائبر کرائم کا جو ادارہ بنایا گیا ہے وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے اور آن لائن ذرائع سے ہی نو سر بازوں کو تلاش کرے اور انکا خاتمہ کرے تو فی الحال مزید اتنا ہی کہ چلتے چلتے اجازت لیکن خواہش یہ بھی ہے کہ قربان نامی نوجوان کی وہ رقم جو نو سر بازوں نے لوٹی ہے وہ اس نوجوان کو واپس دلوائی جائے تو بہرحال اجازت لیکن چلتے چلتے یہ بھی کہنا ہے کہ جتنا دل و دماغ ہم پاکستانی لوگ الٹے سیدھے کاموں میں لگاتے ہیں اس بارے میں ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں اور اگر ہم الٹے سیدھے کاموں میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں ایک دوسرے کو لوٹنے و ٹھگنے میں نا پڑے ہوتے تو ہم بھی یقیننا ترقی کی بے پناہ منازل طے کر چکے ہوتے تو فی الحال چلتے اللہ نگھبان رب راکھا
