خوشی کی خبر

 

خوشی کی خبر

یلغار فیصل شامی

اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے اور ہم بھی اچھے ہی ہیں اور ایک خوشی کی خبر مزید ملی جو کہ عوام کے لئے بھی اچھی خبر ہے اور یہ بھی بتا دیں کے عوامی کے لئے خوشی کی خبر یہ ہے کہ سینما و تھیٹر مالکان کو رات گئے شو جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی اور یہ یقیننا عوام کے ساتھ ساتھ ان سینما مالکان و تھیٹر مالکان کے لئے بھی اچھی خبر ہے یقیننا حکومت کی طرف سے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا اجراء کیا گیا اور سنا ہے کہ عید قربان کی آمد ہے اسی لئے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سینما و تھیٹر کا کاروبار تباہ ہو گیا تھا شو بند ہو گئے تھے اور غریب و معصوم و مظلوم فنکاروں کے گھروں کا چولہا بھی ٹھنڈے پڑ گئے لیکن بھلا ہو ان سینما و تھیٹر مالکان کا جنھوں نے اپنے حقوق کی لڑائی لڑی اور عوام کو خوشی کی خبر سنائی اور ہم بھی گزشتہ دنوں یہ بات برملا کہہ چکے ہیں کہ جس طرح سے حکومت نے اسپورٹس فیڈریشن کو اسمارٹ لاک ڈاؤن سے مبرا قرار دیا مطلب چھوٹ دی بالکل ویسے ہی تھیٹر مالکان کو بھی ملنی چاہیئے کیونکہ ایک ٹرینڈ کہہ لیں یا ایک رواج کہہ لیں یا گویا یوں سمجھ لیں کہ نئے زمانے کا دستور بن چکا ہے کہ اسٹیج ڈرامہ رات گیارہ بجے شروع ہو گا اور رات گئے اختتام پزیر ہو گا اور یقیننا عوام بھی اسی بات کی عادی ہو چکی کے رات گئے دنیا بھر کے کام کاج سے فارغ ہونا ہے اور تفریح حاصل کرنی ہے اور یقیننا رات گئے ڈرامہ دیکھنے کا اتفاق ہمیں بھی ہوا اور رات گئے ہم بھی اپنی فیملی کے ہمراہ لکشمی چوک میں معمر رانا کا ڈرامہ دیکھنے پہنچ گئے اور ہمیں اس بات پہ حیرت ہوئی تھی کہ رات گئے بھی عوام کا جم غفیر تھیٹر میں امڈ آیا اور رات گئے ڈرامہ میں عوام کا رش دیکھ کے ہمیں وہ وقت بھی یاد آ گیا کہ جب اسٹیج ڈرامہ آٹھ بجے شروع ہوتا تھا اور تقریبا دس بجے اپنے اختتام کو پہنچ جاتا تھا اور ہمیں یاد ہے کہ ہم بھی شوق سے ڈرامہ دیکھنے جاتے تھے اور بہت دفعہ تو جناب والد محترم کے ساتھ بھی پوری فیملی نے ڈرامہ دیکھا اور اس وقت امان اللہ مرحوم شوکی خان معین اختر مرحوم عمر شریف مرحوم وسیم عباس ُ اسماعیل تارا سمیت بے شمار نام تھے اور بہت سے نام ایسے ہیں جو آج دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود بھی تاحال عوام کے دلوں پہ راج کر رہے ہیں اور ہمیں بھی وہ زمانہ یاد ہے کہ جب شوق سے آٹھ بجے ڈرامہ دیکھنے جاتے تھے اور وہی شوق ہے کہ عوام آج کے دور میں رات گیارہ بجے گھروں سے باہر ڈرامہ دیکھنے نکلتی ہے تو بہر حال یقیننا خوشی کی خبر ہے کہ سینما و تھیٹر مالکان نے اپنے حقوق کے لئے قانونی طور سے معزز عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کامیابی حاصل کی اور قانونی جنگ بھی جیتی اور اب یقیننا عوام کو اس بات کی خوشی ہو گی کہ وہ رات گئے کھوئی ہوئی تفریح حاصل کر سکینگے اور غریب مظلوم و معصوم سے فنکاروں کے گھروں کے چولہے بھی دوبارہ روشن ہو سکینگے تو فی الحال اجازت۔ دوستوں ملتے ہیں جلد بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

 

More From Author

روزنامہ یلغار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے