موجیں ہی موجیں
یلغار. . فیصل شامی
بسنت. کا ااعلان ہوا اور یوں سمجھیں کے لاہوریوں کی موجیں ہی موجیں ہو گئی اور وہ اس لئے کہ بہت ساری چھٹیاں اکٹھی مطلب ایک ساتھ مل رہی ہیں اس لئے لاہوریوں کی تو موجیں ہی موجیں ہونے کو ہیں جی دو ستوں پنجاب بھر میں چھ سات اور آٹھ فروری کو بسنت کا اعلان کیا گیا لیکن ور بسنت کے موقع پہ تین دن کے لئے عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا اور صوبہ پنجاب میں تین دن کے لئے تو چھٹی کا اعلاان کر دیا گی ا ہے لیکن اس سے پہلے چار اور پاانچ فروری کو بھی عام چھٹی ہو گی پانچ فروری کو پوری پاکستانی قوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن منائے گی اور کشمیر ڈے منانے کے بعد لااہوری تین دن بسنت منائینگے اور اور مزید خوشی کی خبر یہ بھی ہے لاہوریوں کے لئے اور وہ یہ کہ بسنت کی خوشی میں وزیراعلی پنجاب کی طرف سے تین دن کے لئے شہر لاہور میں عوام کی سہولت کے لئے بھی فری ٹرانسپورٹ کاا اعلاان کر دیا گیا ہے. یقیننا فری ٹرانسپورٹ ملنے کی خبر سے بھی لاہوریوں میں خوشی کی لہر ہے اور یققیننا اہل لاہور وزیر ااعلی پنجاب کی ااس کاوش سے ضرور مستفید ہو گی اور محترمہ کی حکومت کی کامیابی و مضبوطی کے لئے. دعائیں بھی کرے گی اور یققیننا یہ بھی ایک نئی روایت ہو گی جو ن لیگ کی حکومت کی طرف سے رکھی جائیگی اور یقیننا ن لیگ کی حکومت مثاالی کارنامے اانجام دینے میں ماہر ہے ااور جب بھی برسر اقتدار آئی ملک ہمیشہ ترقی کے رستے پہ ہی گامزن ہوا اور بسنت اور فری ٹراانسپورٹ دوسرے صوبوں کے لئے بھی مثال ہو گی بہر حال بسنت اور بسنت پہ ہونے والی چھٹیوں پہ بات ہو رہی تھی اور بسنت تین دن منائی جائیگی اور یکم فروری سے شہر لاہور میں پتنگوں کی فروخت کا آغاز ہو چکا. اور ہمیں بھی شوق ہوا کہ اندرون شہر کا چکر لگائیں اور پتنگیں فروخت ہوتی دیکھیں اور مقصد یہ بھی تھا کہ قیمتوں کا بھی اندازہ ہو جائے اور خاص کر بچوں مصطفی اسد اور عبداللہ کو بھی شوق ہو رہا تھا گڈیاں دیکھنے کا اور جب ہم سب شہر پہنچے تو دیکھا ہم ہی نہیں بے شمار دنیا تھی جو پتنگیں خریدنے کے لئے شہر پہچی ہوئی تھی ور بے شمار عوام بھی بالکل ہماری طرح ہی تھی جو صرف جائزہ لینے ہی پہنچے تھے اور شہر پہنچ کے ہی ہمیں معلوم ہوا کہ جو گڈا کبھی پانچ سے دس روپے کا خریدتے تھے وہی گڈاا تین سو سے لے کے پانچ سو روپے تک فروخت ہو رہا تھااور تو اور ڈور بارےبھی معلوم ہوا کہ ر بارہ سے پندرہ ہزار کی چرخی ہے اور ہمیں یاد تھا کہ جب ہم پتنگ بازی کرتے تھےیعنی جب بچے تھے تو اسوقت بارہ نمبر کے علاوہ بارہ ریچھ ہاتھی گھوڑے وغیرہ وغیرہ کے نام سے ڈور دستیاب تھی اور پانچ سات سو ہزار روپے میں بہترین ڈور خریدی جا سکتی تھی لیکن اب وہی ڈور دس بارہ ہزار روپے سے کم فروخت ہوتی نظر نہیں آ رہی اور یقیننا مہنگی ڈوریں اور گڈیاں بھی عواام کے لئے باعث پریشانی ہے اور لاہوریوں کا کہنا ہے کہ جس طرح سےحکومت نے عوام کو فری ٹرانسپورٙ ٹ دینے کا اعلان کیاا ہے اسی طرح عوام کے لئے سرکاری طور سے پتنگوں کے اسٹال بھی ہر گلی محلے میں لگائے جائیں جہاں مستحق عواام کو مفت پتنگیں اور ڈورفراہم کی جائے اور نا صرف یہ بلکہ پتنگ فروشوں کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ سستی پتنگیں اور ڈور فروخت کریں تو عام آدمی بھی یققینناا بسنت کی خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکے گا تو. بہر حال جازت چاہینگے آپ سے فی الحال تو ملتے ہیں جلد دوستوں ااک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

