سرحد پار سے ہونے والی دہشگردی

سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی
آئی ایس پی آر کے مطابق 27جون کو کراچی کے علاقے صفورہ میں پاکستان رینجرز کے ایک کیمپ پر بھارتی پراکسی جماعت الاحرار کے خوارج نے دہشت گردانہ حملہ کیا جسے ناکام بناتے ہوئے تین دہشت گردوں کہ جہنم واصل جبکہ ایک زخمی افغان دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا۔ پاکستان رینجرز کی طرف سے کی جانے والی جوابی کارروائی میں رینجرز کے تین جوانوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیا جبکہ چار زخمی ہوئے۔ دہشت گردوں نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دھماکہ کرنے کے بعد سکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن عزمِ استحکام کے تحت انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، پاکستان شہداءکے خون کا بدلہ لینے کیلئے حملے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف بھرپور جوابی کارروائیاں کرے گا۔ واقعے پرچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہید ہونے والے رینجرز جوانوں کے پسماندگان اور گھر والوں سے گہرے دُکھ اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے اپنے پیغام میں شہداءکو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اِن جوانوں کی قربانیاں پوری قوم کے پختہ ارادے اور عزم کی علامت ہیں۔ ا±نہوں نے یقین دلایا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک فورسز چین سے نہیں بیٹھیں گی اور اِن شہداءکی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھارتی پراکسی جماعت الاحرار کے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے پاکستان رینجرز کے تین جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ا±ن کا کہنا تھا کہ بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، شہداءکی قربانیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قوم اپنی بہادر مسلح افواج، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک جدوجہد پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ حملے میں گرفتار ہونے والے زخمی دہشت گرد نے ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ اُس کا نام عثمان علی ہے اور اس کا تعلق جلال آباد سے ہے،حملے میں ملوث اُس کے ساتھ تین ساتھی عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق تھے۔ اُس کا کہنا تھا کہ اُنہیں افغانستان میں تربیت دی گئی تھی، وہ لوگ سات دن قبل پاکستان آئے تھے، اُن کے ساتھ آنے والا دہشت گرد عبدالہادی مارا جا چکا ہے جو باجوڑ کا رہائشی تھا جبکہ دوسرے دہشت گرد جانان نے پاکستان رینجرز کے کیمپ پر بم پھینکا تھا۔اُس کے بقول کہ اُسے ایک زیر تعمیر عمارت میں رکھا گیا تھا۔ حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا۔ بھاگنے کی کوشش میں اُسے گولی لگ گئی جس کی وجہ سے وہ وہیں گر گیا اور بعدازاں گرفتار کر لیا گیا۔ اُس نے کہا کہ اُس کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے اور ا±س کے افغانستان میں موجود کمانڈر کا نام ”احرار مولوی صاحب“ ہے،تمام حملہ آوروں کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی، اُسے صرف جیکٹ دی گئی تھی کیونکہ وہ اُسے خود سے خود کش جیکٹ بنا سکتا تھا ، اُسے افغانستان میں خود کش جیکٹ اور دیگر ٹریننگ ”عمر قاری“ نے دی تھی۔
کراچی میں سندھ رینجرز کے دفتر پر حملے میں گرفتار افغان دہشت گرد کے انکشافات کے بعد دفترِ خارجہ نے افغان ناظم الامور کو فوری طور پر طلب کیا اور افغان طالبان حکومت کو ایک سخت ترین احتجاجی مراسلہ یعنی ڈیمارش تھمایا گیا جبکہ پاکستانی فورسز نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف بڑی زمینی اور فضائی کارروائی کی جس میں نہ صرف دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے بلکہ جماعت الاحرار کے اہم کمانڈر سمیت 29 دہشت گردوں کو مارنے کے علاوہ درجنوں کو زخمی کر دیا گیا۔ وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ ”ایکس“ پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ سکیورٹی فورسز نے قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات پر افغان صوبے باجوڑ، کنڑ، پکتیا اور پکتیکا میں کارروائیاں کیں۔ بیان کے مطابق آپریشن غضب لِلحق کے تسلسل میں 28 اور 29 جون کی درمیانی شب پاک افغان سرحدی علاقے میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج کے تربیتی مراکز اور محفوظ ٹھکانوں کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں واقع تین اہداف کو نشانہ بنا کر بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کیا گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان خطے میں اَمن اور استحکام کے قیام کے لئے ہمیشہ کوشاں رہا ہے تاہم اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق وفاقی اپیکس کمیٹی کے منظور کردہ عزم استحکام ویژن کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک بھرپور انداز میں جاری رہیں گی۔
پاکستان متعدد بار افغان حکومت کو سرحد پار دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے تاہم دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور نہ ہی دہشت گردی کرنے والوں کو روکا جاتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو مجبوراً اپنا حق ِ دفاع استعمال کرتے ہوئے حملے کرنا پڑتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ افغان حکومت بھارت کی کٹھ پتلی بن کر پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کے بجائے اِس کے ساتھ مل کر نہ صرف دہشت گردوں کو بلکہ اِن کے تمام تربیتی ٹھکانوں کو ختم کرے تاکہ دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا ممکن ہو پائے۔ افغانستان سے برآمد ہونے والی دہشت گردی پر قابو پا لیا جائے تو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر ہمسایہ ممالک بھی سُکھ کا سانس لے سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭

 

ادارتیہ

More From Author

فولادی محافظ

منتہا کی انتہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے