تخت بھائی ڈیجیٹل مردم شماری کے اعداد و شمار

 

تخت بھائی۔۔ صابر نامہ تحریر: مسلم خان صابر

"13 اضلاع سے زیادہ آبادی رکھنے والی تحصیل تخت بھائی کو بہتر انتظامی کنٹرول اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ضلع کا درجہ دیا جائے”

تخت بھائی، 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے اعداد و شمار نے خیبر پختونخوا کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ضلع مردان کی تحصیل تخت بھائی، جس کی آبادی 7 لاکھ 27 ہزار 478 ریکارڈ کی گئی تھی، صوبے کے کم از کم 13 اضلاع سے زیادہ آبادی رکھنے کے باوجود تاحال تحصیل کی حیثیت رکھتی ہے، جس پر سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں نے اسے ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ ایک بار پھر زور و شور سے اٹھایا ہے۔مردم شماری کے مطابق تحصیل تخت بھائی کی آبادی اپر چترال، تورغر، الائی، کولئی پالس، بٹگرام، لوئر کوہستان، اورکزئی، اپر کوہستان، ٹانک، ہنگو، مہمند، شمالی وزیرستان اور ملاکنڈ سمیت متعدد اضلاع سے زیادہ ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بعض حلقوں کے مطابق تخت بھائی کی آبادی ہنگو، مہمند، ٹانک اور تورغر جیسے چار اضلاع کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔مقامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی آبادی کے باوجود تحصیل کا انتظامی ڈھانچہ محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہا ہے، جس کے باعث صحت، تعلیم، شہری سہولیات، ٹریفک، صاف پانی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی خدمات پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق تحصیل تخت بھائی کی آبادی کی کثافت تقریباً 2,061 افراد فی مربع کلومیٹر ہے، جو اسے صوبے کے گنجان آباد علاقوں میں شامل کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق آبادی میں مسلسل اضافے کے ساتھ موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوامی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
سیاسی اور سماجی شخصیات کا کہنا ہے کہ اگر دو سے تین لاکھ آبادی والے کئی علاقے ضلع کا درجہ رکھتے ہیں تو سات لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل تخت بھائی کو بھی ضلع بنایا جانا چاہیے تاکہ اسے الگ انتظامیہ، ترقیاتی بجٹ، ضلعی محکمے اور بہتر عوامی خدمات میسر آ سکیں۔دوسری جانب انتظامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی تحصیل کو ضلع بنانے کا فیصلہ صرف آبادی کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے لیے جغرافیائی حدود، مالی وسائل، انتظامی استعداد، بنیادی انفراسٹرکچر، سرکاری دفاتر کی دستیابی اور صوبائی حکومت کی پالیسی بھی اہم عوامل ہوتے ہیں۔عوامی حلقوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری 2023 کے نتائج کی روشنی میں تخت بھائی کی انتظامی حیثیت کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اگر تمام قانونی و انتظامی تقاضے پورے ہوتے ہوں تو اسے ضلع کا درجہ دینے پر غور کیا جائے، تاکہ علاقے کی بڑھتی ہوئی آبادی کو بہتر اور مؤثر سرکاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔مبصرین کے مطابق مردم شماری کے تازہ اعداد و شمار نے کم از کم اتنا ضرور ثابت کیا ہے کہ تخت بھائی آبادی کے لحاظ سے خیبر پختونخوا کی بڑی انتظامی اکائیوں میں شامل ہو چکی ہے، جس کے باعث اس کی آئندہ انتظامی حیثیت پر بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔

More From Author

پھر امید سی نظر آئی ہے

فولادی محافظ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے