فولادی محافظ ،لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اعوان
تحریر: یاسر دانیال صابری
قوموں کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض عہدوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، علم، محنت اور خدمات کی بدولت پہچانی جاتی ہیں۔ وہ خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، اپنی ذات سے زیادہ وطن کو اہمیت دیتے ہیں اور اپنی تمام صلاحیتیں قوم کے مستقبل کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک بھی پاکستان کے انہی قابل، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت فوجی افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے کیریئر کے ہر مرحلے پر پیشہ ورانہ دیانت، عسکری مہارت اور قومی خدمت کی روشن مثال قائم کی۔ پنجاب کے ضلع سرگودھا کے تاریخی شہر شاہپور کی زرخیز مٹی سے تعلق رکھنے والے ایک اعوان خاندان کے اس سپوت نے بچپن ہی سے نظم و ضبط، حب الوطنی اور خدمت کے جذبے کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ ان کے والد لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام محمد ملک پاک فوج کے سینئر افسر رہے اور اہم عسکری ذمہ داریاں انجام دیتے رہے، اسی وجہ سے وطن سے محبت، فرض شناسی اور قومی خدمت کا جذبہ انہیں وراثت میں ملا۔ محمد عاصم ملک نے نہ صرف فوجی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ علمی میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے بی ایس سی آنرز کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں امریکہ کے فورٹ لیون ورتھ میں عسکری تعلیم کے دوران "Mountain Warfare: The Need for Specialist Training” کے عنوان سے تحقیقی مقالہ تحریر کیا، برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز سے اعلیٰ عسکری تعلیم حاصل کی اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے پاک امریکہ تعلقات کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی۔ ان کی علمی قابلیت نے انہیں پاکستان کے ان نایاب فوجی افسران میں شامل کر دیا جنہوں نے عسکری تجربے کے ساتھ تحقیق اور تدریس کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے 80ویں لانگ کورس سے نمایاں کارکردگی کے ساتھ فارغ التحصیل ہونا اور سورڈ آف آنر جیسے عظیم اعزاز کا حصول ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور غیر معمولی کارکردگی کا ابتدائی ثبوت تھا۔ یہی اعزاز موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی اپنے کورس میں حاصل کیا، جس کے باعث دو سورڈ آف آنر یافتہ افسران کی قیادت پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک منفرد باب بن چکی ہے۔ اپریل 1989 میں 12 بلوچ رجمنٹ میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کمیشن حاصل کرنے والے محمد عاصم ملک نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا اور مسلسل محنت، لگن اور قابلیت کی بنیاد پر لیفٹیننٹ، کیپٹن، میجر، لیفٹیننٹ کرنل، کرنل، بریگیڈیئر، فروری 2017 میں میجر جنرل اور اکتوبر 2021 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک ترقی حاصل کی۔ ان کی فوجی زندگی کا ہر مرحلہ قومی خدمت اور پیشہ ورانہ مہارت کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے جنوبی وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کی قیادت کی، بلوچستان میں 41ویں انفنٹری ڈویژن کی کمان سنبھالی، بریگیڈیئر کے طور پر ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیے، وائس چیف آف جنرل اسٹاف کے اہم عہدے پر خدمات سرانجام دیں اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ حساس علاقوں میں قیادت، قومی سلامتی کے معاملات میں عملی کردار اور عسکری حکمت عملی پر ان کی گہری نظر نے انہیں ایک باصلاحیت اور دوراندیش فوجی رہنما کے طور پر متعارف کرایا۔ آج جب دنیا میں جنگوں کی نوعیت بدل چکی ہے اور عسکری طاقت کے ساتھ علم، تحقیق، سفارت اور حکمت عملی بھی قومی سلامتی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں تو ایسے افسران کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جو میدان جنگ اور علمی دنیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہوں۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کی شخصیت اسی خوبصورت امتزاج کی عکاس ہے جہاں ایک جانب سپاہی کی جرات، کمانڈر کی قیادت اور محقق کی بصیرت موجود ہے تو دوسری جانب وطن سے غیر متزلزل وفاداری اور قومی مفادات کے تحفظ کا جذبہ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ کامیابی محض خواب دیکھنے سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، اعلیٰ کردار، نظم و ضبط اور علم کے حصول سے حاصل ہوتی ہے۔ وطن کی خدمت صرف سرحدوں پر بندوق اٹھانے کا نام نہیں بلکہ علم، تحقیق، قیادت اور ذمہ داری کے احساس سے بھی قوموں کی تعمیر ہوتی ہے۔ پاکستان کی سرزمین ایسے سپوتوں پر ہمیشہ فخر کرتی رہے گی جنہوں نے اپنی زندگیوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی، اداروں کی مضبوطی اور وطن عزیز کے استحکام کے لیے وقف کر دیا۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کی داستان دراصل محنت، کردار، علم اور حب الوطنی کی وہ داستان ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہےآج کی دنیا میں کسی بھی ملک کی بقا، خودمختاری اور ترقی کا انحصار صرف معاشی استحکام پر نہیں بلکہ ایک مضبوط دفاعی نظام پر بھی ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جو اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بناتی ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے جہاں اندرونی اور بیرونی خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک مضبوط، منظم اور جدید دفاعی نظام قومی سلامتی کی بنیادی ضرورت بن جاتا ہے۔
دفاعی نظام صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں بلکہ یہ قومی خودمختاری، داخلی استحکام، عوام کے اعتماد اور ملکی وقار کی ضمانت بھی ہوتا ہے۔ جدید دور میں جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ سائبر حملے، اطلاعاتی جنگ، معاشی دباؤ اور خفیہ سرگرمیاں بھی قومی سلامتی کو متاثر کرتی ہیں۔ اسی لیے ایسے فوجی رہنما اور ماہرین کی ضرورت بڑھ گئی ہے جو عسکری مہارت کے ساتھ ساتھ علمی بصیرت، تحقیقی صلاحیت اور جدید دفاعی حکمت عملی سے بھی واقف ہوں۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک جیسے افسران کی خدمات اس حوالے سے نہایت اہم ہیں، کیونکہ وہ عسکری قیادت کے ساتھ علمی اور تحقیقی میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان جیسے تجربہ کار افسران دفاعی اداروں کی مضبوطی، قومی سلامتی کے استحکام اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک مضبوط دفاعی نظام ہی قوموں کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھتا ہے، اور یہی وہ قوت ہے جو دشمن کے عزائم کو ناکام بنا کر وطن عزیز کی سلامتی کو یقینی بناتی ہے۔
