پڑھے لکھے جاہل ہیں گویا

عید قربان عقیدت و احترام سے منائی گئی
یلغار فیصل شامی

امت مسلمہ نے فریضہ حج ادا کیا عید قربان بھی مزہبی جوش و خروش و عقیدت احترام سے منائی گئی عید کے موقع پہ دنیا سمیت ملک بھر میں بھی نماز عید کے اجتماعات منعقد ہوئے جن میں ملک و قوم کی سلامتی و بقاء اور دین اسلام کی سربلندی کے لئے بھی خصوصی دعا کی گئی نماز عید کی ادائیگی کے بعد قربانی کا آغاز ہوا جو تین دن تک جاری رہا اور دنیا بھر کے مسلمانوں نے قربانی ادا کی اور قربانی کے بعد عزیز و اقارب رشتے داروں دوستوں کے لئے خصوصی دعوت طعام کا بھی اہتمام ہوا جن میں رنگ برنگے پکوان پکا کے مہمانوں کی۔ تواضع کا اہتمام کیا گیا اور کہا جاتا ہے کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے اور بچوں کو سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے جب چھوٹی عید پہ عیدی ملتی ہے لیکن بڑی عید پہ عیدی نہیں ملتی لیکن بچے تو بچے ہیں جو قربانی کے لئے لائے جانے والے جانوروں کو دیکھ کے خوش ہوتے ہیں اور بچے جانوروں کے ساتھ خوب کھیلتے بھی ہیں اور یہی شوق ہمیں بھی تھا بچپن میں اور اب ہمارے صاحبزادوں مصطفی شامی اسد شامی و عبداللہ شامی کو بھی ہے جو بڑے ذوق و شوق سے قربانی کے لئے لائے گئے بکروں کے ساتھ کھیلتے رہے اور یقیننا عید کا موقع خوشی کا ہوتا ہے عید ہمیں محبت بھائی چارے کا درس دیتی ہے اور یہی درس انسانیت کا بھلائی کا پیار محبت کا اتفاق کا اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھامنے کا درس بھی خطبہ حج میں جناب محترم امام کعبہ نے دیا اور یقیننا اگر دیکھا جائے تو ہم آج کے اس ماڈرن دور میں اپنی ثقافت روایت اسلامی اقدار کو بھول چکے آج ہمارے اس ماڈرن دور میں بھی وہی زمانہ جاہلیت کا عالم ہے کہ جب لڑائی جھگڑا چوری چکاری جواء بدکاری سمیت بہت سی برائیاں عام تھیں اور پھر دین اسلام کا سورج طلوع ہوا جسکی کرنیں دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچی اور اللہ پاک کے حکم سے دین اسلام کفر پہ غالب ہوا اور دین اسلام کا بول بالا ہوا اور یقیننا آج بھی وہی سماجی و اخلاقی برائیاں عام ہیں جو زمانہ جاہیلیت میں تھیں اور ہزاروں سال پرانے اور آج کے دو ماڈرن دور کا فرق صرف یہ ہے کہ ہم پڑھے لکھے جاہل ہو چکے ذرا ذرا سی بات پہ لڑنا جھگڑنا غصہ کرنا معمول بن چکا آج کل تو راہ چلتے ہی صرف اس بات پہ لڑائی ہو جاتی ہے کہ ہماری طرف دیکھا کیوں مقصد یہ کہ ہم مسلمان ہیں لیکن دین اسلام سے دور ہو چکے اور شائد یہی ہماری ناکامی کا سبب بھی اور معاشی بدحالی کا سبب بھی بنتا جا رہا ہے اور یقیننا اگر ہم دین اسلام کے رستے پہ چلینگے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینگے تو یقیننا۔ ہر جگہ ہر وقت کامیابی ہمارے قدم چومے گی اور ایک دفعہ پھر وہ دور آئیگا کہ دنیا بھر میں دین اسلام پھر جلد غالب آ جائیگا تو بہر دوستوں فی الحال اجازت ملتے ہیں جلد اک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

More From Author

روزنامہ یلغار

روزنامہ یلغار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے