ایک دفعہ پھر بچوں کی چھٹیاں ہوئیں تو اسلام آباد کا رخ کیا اور ہر سال کی طرح بچہ پارٹی کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے اور ہمیشہ کی طرح اسلام آباد کے لئے موٹر وے پہ ہی سفر کا انتخاب کیا اور یقیننا جب موٹر وے پہ سفر کرتے ہیں تو یقیننا سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی یاد آ جاتی ے اور یقیننا اگر دیکھا جائے تو موٹر وے جناب میاں نواز شریف کا ہی تحفہ ہے اور میاں نواز شریف تین دفعہ وزیراعظم بنے لیکن ہر بار انکی حکومت سازشیوں کا شکار ہوئی بہر حال یقیننا عوام آج بھی نواز شریف کو بھی اور نواز حکومت کو بھی یاد کرتی ہے اور یقیننا جب بھی ہم موٹر وے پہ سفر کرتے ہیں تو ہمیں میاں نواز شریف کے وہ سنہرے اقدامات بھی یاد آنے لگتے ہیں جو انھوں نے ملک و قوم کے لئے کئے اور ایک دفعہ پھر جب ہم موٹر وے پہ سفر کر کے اسلام آباد پہنچے تو یہ بھی معلوم ہوا کہ موٹر وے پہ ٹول کم کر دیا گیا اور ہم نے جو ٹول دیا وہ 1400 روپے تھا جبکہ اس سے قبل ہم 1800 ٹول ادا کرتے تھے اور اکٹھا ہی چار سو روپے ٹول کم ادا کر کے ہمیں یقیننا بے حد خوشی ہوئی اور یہ بھی یاد ہے کہ جب موٹر وے بنی تو تب سے ہی موٹر وے پہ سفر۔ کر رہے ہیں اور جب موٹروے شروع ہوئی تو اس وقت 45 یا۔ 50 روپے کے قریب تھا اور موٹروے پہ اتنے سالوں میں ٹول بڑھتے ہی دیکھا ہے لیکن کبھی کم ہوتے نہیں دیکھا اور شائد یہ پہلا موقع۔ تھا کہ موٹر وے پہ ٹول کم ہو گیا اور یقیننا عوام کے لئے بھی خوشی کی بات ہے اور ٹول ٹیکس ادا کر کے بخیر و خوبی اسلام آباد پہنچے کچھ وقت راولپنڈی یلغار آفس میں ہنڈی اسلام آباد کے دوستوں کے ساتھ بھی گزارا جن میں خرم ملک اسد جمیل زبیر عرفان حیدر سمیت دیگر دوست بھی شامل تھے سے ملاقات ہوئی دو تین دن اسلام آباد میں قیام کیا پھر اسی دوران۔ مری کا پروگرام بنا اور یقیننا مری خوبصورت ترین جگہ ہے اور مری کو ہی ملکہ کوہسار کہا جاتا ہے یعنی کہ پہاڑوں کی ملکہ ا اور یقیننا مری اپنے قدرتی حسن اور حسین نظاروں کی وجہ سے ہی دنیا بھر کے سیاحوں کا مرکز ہے اور ہمیں بھی مری بے حد پسند ہے اور ہمیں مری آتے جاتے۔ زندگی کا طویل عرصہ ہو گیا ہے یا یوں سمجھ لیں کے بچپن سے ہی مری میں آنا جا ہے اور مری میں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں اور قدرتی حسن سے مالا مال مطلب لطف اندوز ہوتے ہیں اور اسی خوبصورتی کے باعث ہی ہم بھی مری کی طرف کھچے چلے آتے ہیں لیکن۔ مری۔ میں آنے والے سیاحوں۔ کا کہنا ہے کہ مری والے جو ہیں وہ سیاحوں کو وہ عزت نہیں فراہم کرتے جو انکا حق۔ ہے بہر حال اب ہم اس بارے میں کیا کہیں لیکن یہ بتائے دیتے ہیں کہ ہم بھی بات کر رہے تھے کہ مری کی سیر کا پروگرام بنا اور جب اسلام آباد سے مری کا رخ کیا تو سوچا کہ جی ٹی روڈ سے چلیں وہ اس لئے کہ جی ٹی روڈ پہ مری سے پہلے جگہ جگہ سڑکوں کے کنارے بیٹھے بندر عوام کو دلچسپ تفریح فراہم کرتے ہیں اور ہمارے بھی تینوں صاحبزادے مصطفی اسد عبداللہ بھی بندروں کو دیکھ کے خوش ہوتے ہیں تو ہر حال ہم نے سوچا کہ جی ٹی روڈ سے چلا جائے لیکن۔ جی ٹی روڈ کو نا جانے کس وجہ سے بند کیا گیا تھا اور جی ٹی روڈ بند ہونے کی وجہ سے ہم نے بھی ایکسپریس وے پہ گاڑی موڑ لی اور تقریبا ایک گھنٹے کے سفر کے بعد جب مری پہنچے اور مری پہنچ کے کھانا کھایا اور کھانا کھانے کے بعد اچانک ہی بچوں کے ساتھ پروگرام بن گیا کہ نیلم ویلی کی سیر کی جائے اور یہ بھی بتا دیں کہ ہم نیلم ویلی پہلے بھی متعدد مرتبہ جا چکے اور نیلم ویلی میں ہمارے پیارے بھائی اسد خواجہ اور اظہر بٹ ہیں جن سے تقریبا چار سال پہلے ملاقات ہوئی اور یہ بھی بتا دیں کہ گزشتہ چار سالوں میں تقریبا تین دفعہ نیلم جا چکے اور نیلم میں ہم نیلم گرین گیسٹ ہاؤس میں ہی ٹھرتے ہیں جو کہ ہمارے پیارے بھائی اسد خواجہ کا ہے اور باڑیاں میں ہے اور یہ بھی بتا دیں کے باڑیاں نیلم ویلی کے آغاز میں ہی ہے اور جب اچانک پروگرام بنا تو ہم نے اسد بھائی کو فون کیا ان سے رابطہ نا ہوا لیکن اظہر بھائی سے رابطہ ہو گیا اور ہم نے اظہر بٹ کو اپنے نیلم ویلی آنے کی اطلاع دی اور کھانا تیار کروانے کا بھی کہہ دیا۔ اور مری سے کھانا کھانے کے بعد ہم نے نیلم ویلی کا رخ کیا اور نیلم ویلی کے رستے میں ہی کوہالہ پل بھی آتا ہے اور کوہالہ پل عوام کی بہترین تفریح کا ذریعہ ہے وہاں کے مقامی افراد نے دریائے نیل کے کنارے منجیاں کرسیاں میزیں لگا رکھی ہیں جو کہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے اور کوہالہ پل کراس کر کے آپ ریاست آزاد کشمیر میں داخل ہو جاتے ہیں اور جب آپ ریاست آزاد کشمیر میں داخل ہونگے تو دائیں جانب جانے والے رستے پہ راولا کوٹ اور باغ ہیں جبکہ اگر آپ پل کراس کر کے سیدھا کوہالہ پل کراس کرینگے تو آپ۔ کو وہی سیدھا رستہ مظفر آباد پہنچا دیگا اور مظفر آباد کا سفر بھی دریائے نیلم کنارے خوبصورت بھی ہو جاتا ہے اور دلکش بھی اور ہم بھی کوہالہ پل کراس کر کے سیدھا دریائے نیلم کے کنارے سفر کرتے مظفر آباد پہنچ گئے اور مظفر آباد میں چائے بریک ہوئی اور چائے پی کے تازہ دم ہونے کے بعد نیلم ویلی کی طرف دوبارہ سفر شروع کیا اور مری سے جب کھانا کھا کے نکلے تو دوپہر کے اڑھائی بج رہے تھے اور جب ہم دریائے نیلم کے کنارے سفر کرتے باڑیاں اپنی منزل مقصود پہ پہنچے تو رات کے سوا آٹھ بج۔ رہے تھے تقریبا پانچ گھنٹے کے سفر کے بعد۔ مری سے وادی نیلم پہنچے تھے اور جب وادی نیلم میں داخل ہونے لگے تو اس سے پہلے ہمارے استقبال کے لئے نیلم ڈیم موجود تھا اور نیلم ڈیم کراس کر کے تقریبا گھنٹہ بھر کے قریب سفر کرنے کے بعد ہم نیلم وادی پہنچے جہاں پہ موجود چیک پوسٹ کے عملے نے ہمارا استقبال کیا ہمارا شناختی کارڈ نمبر نوٹ کیا اور اسکے بعد ہمیں کہا کہ ٹورسٹ جو ہیں انکا داخلہ بند ہے نیلم ویلی میں لیکن ہمارا اسسٹنٹ بھی اور ڈرائیور بھی مختار نے پولیس والوں کو کہا کہ باڑیاں میں ہمارے عزیز ہیں اور انکے گھر تقریب ہے اور ہم تقریب میں شرکت کے لئے جا رہے ہیں اور بڑی مشکل سے چوکی کے عملے سے اجازت ملی جسکے بعد ہم باڑیاں پہنچے اور جب ہم باڑیاں پہنچے تو لائٹ نہیں تھی یعنی کے لوڈ شیڈنگ تھی لیکن جنریٹر چل رہا تھا جس وجہ سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھوڑی دیر گزرنے کے بعد بتی بھی آ گئی اور اسکے بعد ہم نے کھانا کھایا جو کہ اظہر نے تیار کروایا تھا ہم نے کھایا اور کھانا کھانے کے بعد ہم نے آرام کا پروگرام بنایا تاکہ صبح جلدی اٹھا جائے اور سیر کا پروگرام بنایا جائے اور پھر صبح اٹھ کے ہم نے گیسٹ ہاؤس سے ہی ناشتہ کیا اور ناشتہ کر نے کے بعد بچہ پارٹی کے ہمراہ کنڈل شاہی پہنچ گئے یہ بھی بتا دیں کے کنڈل شاہی میں واٹر فال یعنی آبشار ہے جو عوام کی بالخصوص سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے اور ہم پہلے بھی اس واٹر فال مطلب آبشار پہ جا چکے ہیں اور باڑیاں سے کنڈل شاہی واٹر فال کا رستہ تقریبا آدھے پونے گھنٹے کا ہے اور واٹر فال پہ جب ہم پہنچے تو رش نا۔ تھا۔ فوڈ۔ پوائنٹ بھی بند تھے۔ اور ہم۔ تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد ہم نے دوبارہ گیسٹ ہاؤس کی راہ لی خیال تھا کہ شاردا۔ جائیں۔ لیکن۔ شاردا دور تھا اس لئے شاردا کی سیر کا پروگرام اگلے روز پہ رکھ لیا تقریبا تین روز نیلم ویلی میں قیام کیا اور۔ سب سے دلچسپ و حیران کن بات یہ تھی کہ تین دن ہم نے بغیر فون کے بغیر انٹرنیٹ کے گزارے جی ہاں یہ بتلا دیتے ہیں کہ جیسے کہ آزاد کشمیر میں ٹورسٹ کا داخلہ بند ہے بالکل ویسے ہی انٹر نیٹ بھی بند ہے اور اہلیان نیلم ویلی پریشان ہیں کہ ٹورسٹ نا آنے سے کاروبار میں گھاٹا ہے جبکہ انٹرنیٹ کی بندش سے دنیا بھر سے بھی اور دنیا بھر میں بیٹھے عزیز و اقارب سے بھی رابطہ منقطع ہے اور یقیننا انٹرنیٹ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے آپ گھر بیٹھے دنیا بھر کے کسی بھی کونے میں تیزی سے رابطہ کر سکتے ہیں اور آزاد کشمیر کے شہری انٹرنیٹ جیسی سہولیات سے محروم ہیں اور اسی وجہ سے ہم بھی دنیا بھر سے دور رہے اور کسی سے کوئی رابطہ بھی نا ہو سکا اس دوران اور شاردا کی سیر کا پروگرام اگلے روز رکھ لیا بتا دیں کے شاردا بھی نیلم ویلی کا خوبصورت ترین مقام ہے اور ٹورسٹ کے لئے خوبصورت تفریح پوائنٹ بھی جہاں پہ ٹورسٹ کے لئے واٹر بوٹ اور واٹر اسکوٹر کا بھی انتظام ہے اور کھانے پینے کے بے شمار ریسٹورنٹ بھی اور رہنے کے لیے بے شمار ہوٹلز بھی اور اگلے روز ہم شاردا کے لئے روانہ ہوئے اور باڑیاں سے شاردا کا سفر تقریبا چار گھنٹے ہے گو کہ فاصلہ زیادہ نہیں ہے لیکن پہاڑی رستے کی وجہ سے تھوڑا سا سفر بھی گھنٹوں کا بن جاتا ہے اور ہم نے بھی باڑیاں سے شاردا کا سفر تقریبا چار گھنٹے میں طے۔ کیا اور چار گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم شاردا پہنچے شاردا پہنچتے ہی بچہ پارٹی نے بکریاں پہن لی اور جھیل کنارے پتھروں میں چھوٹے بہنے والے چشمے میں نہانے لگے ہم نے بھی سیلفیاں بنوائیں تصویریں بنوائیں اور شاردا میں ہی سب نے مل کے کھانا کھایا اور کھانا ہم نے گیسٹ ہاؤس ہی پکا لیا تھا اور گاڑی کی ڈگی میں رکھ لیا تھا اور شاردا سے قبل ہی ہم نے ایک ہوٹل سے روٹیاں لے لی تھی اور یقیننا حیرت ہوئی کہ جو بکرے کا گوشت ہم پنجاب میں پاکستان میں تین سے چار ہزار فی کلو خرید رہے ہیں اور کھا بھی رہے ہیں وہ بکرے کا گوشت نیلم ویلی میں پندرہ سو سے اٹھارہ سو روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے اور نا صرف گوشت پندرہ سو سے اٹھارہ سو فروخت ہو رہا بلکہ آٹا بھی ایک ہزار روپے کی بوری مل رہی ہے جبکہ بجلی فی یونٹ پانچ روپے کے قریب ہے جو۔ کہ یقیننا ہمارے لئے بھی حیرت والی بات تھی کہ پاکستان میں کتنی مہنگائی ہے اور یہ بات بھی غلط نہیں کہ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کے رکھ دی لیکن آزاد کشمیر نیلم ویلی میں۔ تو تو لگتا ہے انتظامیہ نے مہنگائی کی کمر توڑ کے رکھ دی اور یہ بات ہمیں ہمارے مقامی دوستوں سے ہی معلوم ہوئی اور بات ہو رہی تھی شاردا کی تو ہم بتا رہے تھے کہ تقریبا چار گھنٹے کے سفر کے بعد شاردا پہنچے بچوں نے نہا کے تفریح حاصل کی اور ہم نے تصویریں و سیلفیاں بنا کے تاکے یادگار رہے اور بچوں نے نہانے کے بعد اور ہم نے تصویریں بنوانے کے بعد پیٹ پوجا کا سوچا اور پھر آرام سے تسلی سے کھانا کھایا اور کھانا کھانے کے بعد ہماری بیگم صاحب نے چائے بنائی اور سب بچوں نے مل کے چائے پی اور چائے پیتے پیتے۔ شام ہو نے لگی اور ہم نے واپسی کا رخ کیا اور تقریبا رات ساڑھے دس واپس گیسٹ ہاؤس میں آ گئے اور اور جب ہم گیسٹ ہاؤس واپس پہنچے تو اسد خواجہ بھی آ گئے اور اسد سے کشمیر کی سیاسی صورتحال پہ بھی بات چیت ہوئی اور آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات بارے بھی خاصی گفت و شنید ہوئی اور نیلم ویلی میں پارٹی پوزیشن جاننے کی کوشش بھی کی تو بہت سی خبریں سننے کو ملی اور یقیننا معلومات میں بھی بہت سا اضافہ ہوا اور رات دیر تک باتیں کرنے کے بعد اسد بھائی سے رخصت لی اور سونے کا پروگرام بنایا کیونکہ راولپنڈی واپس جانا تھا اور پھر صبح جلدی اٹھ کے ناشتہ کیا اسد بھائی اور اظہر کو الوداع کیا اور اسلام آباد کے سفر پہ روانہ ہو ئے اور۔ رات گئے واپس اسلام آباد پہنچ گئے اور۔ پھر۔ اسکے۔ بعد۔ لاہور کے۔ سفر۔ کی۔ تیاری کا۔ آغاز کرنے لگے تو بہر حال دوستوں فی الحال کے لئے اتنا ہی کافی ہیں ملتے ہیں جلد دوبارہ آپ سے دوستوں تو تب تک کے لئے اللہ نگھبا ن رب راکھا
دریائے نیلم کنارے سفر مری سے نیلم تک
You May Also Like
Posted in
سٹی نیوز
سینئیر صحافی کا دنیا نیوز سے استعفی
Posted by
admin
Posted in
daily yalghar
روزنامہ یلغار
Posted by
admin
