
*قانون کی تلوار یا عدل کا ترازو….؟*
————————
(حافظ محمد علی سفیان )
قارئین محترم ….تاریخ کا فیصلہ بڑا بے رحم ہوتا ہے… وہ نہ تختوں کی چمک سے مرعوب ہوتی ہے…. نہ تاجوں کی آب و تاب سے… وہ صرف ایک سوال پوچھتی ہے….:
” کیا تم نے انصاف کیا تھا…؟ ”
سلطنتیں توپوں سے فتح کی جا سکتی ہیں…. لیکن دل صرف انصاف سے فتح ہوتے ہیں…. فوجیں سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں… مگر… عدل قوموں کی روح کی حفاظت کرتا ہے…. جب قانون انصاف کا لباس پہن لیتا ہے… تو… رعایا ریاست پر جان نچھاور کرتی ہے… اور جب قانون انصاف سے خالی ہو جائے تو خوف… بے یقینی… اور بداعتمادی… معاشرے کی رگوں میں… زہر بن کر دوڑنے لگتی ہے…
آج پنجاب میں… زیرِ غور… "عادی مجرموں اور سماج دشمن رویوں” …سے متعلق…. مجوزہ قانون نے …اسی بنیادی سوال کو …ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے… ایک طرف ریاست کا یہ فرض ہے… کہ وہ جرائم… بدامنی… دہشت… قبضہ مافیا… منشیات… بھتہ خوری اور ہر اس فتنے کا سدباب کرے… جو… معاشرے کے امن کو نگل رہا ہو…. دوسری طرف یہ بھی لازم ہے… کہ… قانون کی ہر شق …عدل… شفافیت… اور جواب دہی کے اصولوں پر قائم ہو…
اسلام نے… نہ ظلم برداشت کرنا سکھایا ہے … اور نہ ظلم کرنا…
ارشادِ باری تعالیٰ ہے…:
"بے شک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے” …(سورۃالنحل : 90)
اور ایک اور مقام پر فرمایا…:
"کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف چھوڑ دو… انصاف کرو ، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔” (سورۃ المائدہ: 8)
یہ آیات صرف تلاوت کے لیے نہیں… بلکہ قانون سازی…. عدالتوں اور ایوانِ اقتدار کے لیے ابدی منشور ہیں….
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
".. تم سے پہلے قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں… کہ… جب ان میں کوئی بااثر شخص… جرم کرتا… تو … اسے چھوڑ دیتے… اور جب کوئی کمزور جرم کرتا… تو …اس پر سزا نافذ کرتے…”
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ قانون کی اصل عظمت اس کی برابری اور غیر جانب داری میں ہے… نہ کہ… صرف اس کی سختی میں…..
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دور اسلامی حکمرانی کا ایسا روشن باب ہے…. جہاں اقتدار سے زیادہ… انصاف کا چرچا تھا… ایک عام شہری خلیفۂ وقت سے سوال کر سکتا تھا… قاضی کے سامنے… حکمران اور رعایا ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے تھے… اور انصاف… کسی منصب کا محتاج نہ تھا.. یہی وہ عدل تھا… جس نے رومی اور ایرانی سلطنتوں کے ایوانوں کو لرزا دیا تھا…
علامہ اقبال نے… اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے …. :
"جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو…
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی… ”
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے… کہ… اقتدار اگر اخلاق… عدل …اور خدا خوفی سے خالی ہو جائے… تو… وہ محض قوت کا مظاہرہ رہ جاتا ہے…
اسی طرح اقبال نے ایک اور مقام پر خبردار کیا… :
” سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا ”
یہ صرف نوجوانوں کے لیے نصیحت نہیں…. بلکہ ہر قانون ساز… ہر جج…. ہر منتظم …اور ہر صاحبِ اقتدار کے لیے پیغام ہے…
اگر کوئی شخص واقعی معاشرے میں فساد برپا کرتا ہے… بار بار جرائم کا ارتکاب کرتا ہے… یا عوام کے امن و سکون کو نقصان پہنچاتا ہے… تو اسلام ہرگز یہ نہیں کہتا… کہ… اسے کھلی چھوٹ دے دی جائے… بلکہ قرآن” فساد فی الارض ” کی مذمت کرتا ہے… اور معاشرے کے امن کو… ایک عظیم نعمت قرار دیتا ہے… لیکن… اسلام ساتھ ہی یہ بھی سکھاتا ہے.. کہ سزا ثبوت کے ساتھ ہو… فیصلہ انصاف کے ساتھ ہو… اور اختیار… جواب دہی کے ساتھ ہو…
یہی وجہ ہے… کہ … آج اصل بحث … قانون کی ضرورت پر نہیں… بلکہ قانون کے توازن پر ہے… ایسا توازن… جس میں ریاست.. اتنی مضبوط ہو کہ مجرم… اس کے خوف سے جرم چھوڑ دے… اور عدل اتنا مضبوط ہو کہ بے گناہ ریاست سے خوف زدہ نہ ہو…
یاد رکھیے…! قانون کی اصل طاقت… ہتھکڑی میں نہیں… اعتماد میں ہوتی ہے… عدالت کی عظمت… عمارتوں میں نہیں… فیصلوں میں ہوتی ہے… حکومت کی قوت… نعروں میں نہیں… انصاف میں ہوتی ہے….
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب قانون… انتقام کا ذریعہ بن جائے… تو سلطنتیں بکھر جاتی ہی… اور جب قانون عدل کا مظہر بن جائے … تو… کمزور ریاستیں بھی ناقابلِ تسخیر بن جاتی ہیں….
آج پاکستان کو… ایسے قوانین درکار ہیں… جو مجرم کے لیے آہنی دیوار ہوں… لیکن بے گناہ کے لیے سایۂ رحمت ثابت ہوں …. ایسے قوانین… جو… معاشرے میں امن پیدا کریں… لیکن… انصاف کی قیمت پر نہیں… ایسے قوانین … جو ریاست کو مضبوط کریں… مگر آئین… شریعت… اور بنیادی انسانی وقار کو… ساتھ لے کر چلیں۔
آخر میں… اربابِ اقتدار… قانون سازوں…. اور… اہلِ انصاف سے صرف ایک گزارش ہے… :
قانون ضرور بنائیے…. لیکن ایسا قانون…. جو قیامت کے دن بھی آپ کے حق میں گواہی دے… کیونکہ… عدالتوں کے فیصلوں سے بچا جا سکتا ہے… مگر ربّ العالمین کی عدالت میں… نہ کوئی سفارش چلے گی… نہ کوئی منصب… نہ کوئی اکثریت… نہ کوئی اقتدار…وہاں صرف عدل کا ترازو قائم ہوگا… اور اسی ترازو میں… قوموں کی تاریخ بھی تولی جائے گی… اور حکمرانوں کا کردار بھی…!!!!
(وما علینا الا البلاغ)
