
*مثبت امیدیں*
*یلغار امن ایمبیسڈر فرحت ناز*
پاکستان آج ایک کٹھن موڑ پر کھڑا ہے۔ ہر طرف سوال ہے کہ "معملات کہاں ہیں؟” اور "سہولت کب ملے گی؟”
*1. کہاں معاملات مشکل نظر آتے ہیں؟*
*معاشی محاذ*: مہنگائی، بجلی-گیس کے بل، اور ڈالر کی اونچ نیچ نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ چھوٹا کاروبار دباؤ میں ہے، اور نوکریوں کے مواقع کم ہیں۔
*سیاسی محاذ*: عدم استحکام، الزام تراشی اور اعتماد کا بحران۔ ادارے اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھ رہے ہے۔ جب سیاست سڑکوں پر ہو اور مکالمہ پارلیمنٹ سے نکل جائے تو معاملات الجھتے ہی ہیں۔
*سماجی محاذ*: تعلیم کا معیار، صحت کی سہولیات، اور نوجوانوں کی مایوسی۔ "برین ڈرین” یعنی قابل لوگوں کا باہر جانا سب سے بڑا خطرہ ہے۔
*2. کہاں پاکستان سہولت اور آسانی دیتا نظر آتا ہے؟*
مشکل کے ساتھ امید بھی ہے، اور وہ بھی پاکستان میں ہی ہے:
*ڈیجیٹل پاکستان*: فری لانسنگ، آئی ٹی ایکسپورٹس، اور نوجوانوں کے اسٹارٹ اپس۔ آج ایک لڑکا گھر بیٹھے دنیا کو سروس بیچ رہا ہے۔ حکومت کے پاس ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، مگر دروازہ کھل چکا ہے۔
*انفراسٹرکچر*: موٹرویز، CPEC کے تحت سڑکیں، اور شہروں میں میٹرو بس جیسے منصوبے۔ عام آدمی کو سفر میں سہولت ملی ہے۔
*انسانی ہمدردی*: سیلاب، زلزلے یا کسی بھی بحران میں پاکستانی قوم کا "ایک دوسرے کے لیے کھڑا ہو جانا”۔ یہ سب سے بڑی سہولت ہے جو کسی قانون سے نہیں ملتی۔
*بیرون ملک پاکستانی*: ریمیٹنس یعنی بیرون ملک سے بھیجا گیا پیسہ آج بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ پاکستان کا بیرون دنیا پر اعتماد ہے۔
*3. آگے کیا ہوگا؟ پاکستان کیا دے گا؟*
مستقبل تب بہتر ہوگا جب ہم 3 کام کریں گے:
1. *آسانی کا ایجنڈا*: سیاست کو "کرسی” کے بجائے "سکول، ہسپتال، اور روزگار” پر لے جانا ہوگا۔ جب ریاست کی ترجیح عوامی سہولت ہوگی، تو نتائج خود آئیں گے۔
2. *نوجوان پر سرمایہ کاری*: IT، ہنر، اور زرعی ٹیکنالوجی میں۔ پاکستان کے 60% لوگ 30 سال سے کم عمر ہیں۔ یہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں، بوجھ نہیں۔
3. *امن اور استحکام*: اندرونی انتشار ختم کیے بغیر کوئی سہولت پائیدار نہیں ہو سکتی۔ جب مکالمہ ہوگا، انصاف ہوگا، تو سرمایہ کاری بھی آئے گی اور آسانی بھی۔پاکستان میں جو سفاق ٹیکس اور غیر منصفانہ قانون یعنی واں سیڈڈ قانون۔یہ پاکستان کی تباہی کی وجہ ہے۔یہ اصل میں پاکستان کی بنیاد کو ہلانے والی باتیں ہے اور لوگوں کو تیشہ میں لانے والی باتیں ہے۔ یہ قانون امیر کو امیر ترین اور غریب کو غریب ترین کرنے والا قانون ہے۔اور صاف کہوں تو یہ قانون غنڈہ گردی کے ساتھ کھڑے ہونے والا اور مظلوم کی آواز پر پاوں رکھنے والا قانون ہے۔ یہی پر بہت سی مثبت تبدیلیاں بھی آئی ہے، سہولتیں بھی دی گئ ہے ۔ مگر آپ چند سہولتوں کے عوض بے شمار بوجھ لادنا ذیادتی ہے۔
*نتیجہ*:
ہاں، مشکلات ہیں اور وہ نظر آتی ہیں۔ لیکن سہولتیں بھی ہیں اور وہ بھی نظر آ رہی ہیں۔ فرق صرف نظرئیے کا ہے۔
اگر ہم نے ماضی کے جھگڑے کو گلے لگا کر رکھا تو کل بھی مشکل ہوگا۔ اور اگر ہم نے آج فیصلہ کر لیا کہ "اب بنانا ہے، لڑنا نہیں” تو یہی پاکستان 5 سال بعد آسانی، مواقع اور عزت دینے والا ملک بن جائے گا۔
*کیونکہ پاکستان کا مستقبل مایوسوں سے نہیں، امید رکھنے والے "امن سفیر” سے بنے گا۔*
*یلغار امن ایمبیسڈر فرحت ناز*
