وزیراعلی پنجاب کا گزشتہ روز جناح ہسپتال کا اچانک دورہ ۔ بدانتظامی پر پرنسپل اور ایم ایس معطل۔
دوسری جانب جناح نرسنگ کالج کی طالبات نے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا ۔
لاہور (فیصل مجیب الرحمٰن شامی و انویسٹیگیشن سیل سے)
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے گزشتہ روز اچانک جناح ہپستال پہنچنے پر شکایات کے انبار لگ گئے جس پر فوری طور پر ایم ایس اور پرنسپل کو معطل کر دیا گیا دوسری جانب جناح ہسپتال کے جناح نرسنگ کالج کی طالبات کا احتجاج بھی ایک سوالیہ نشان کھڑا کر گیا ہے کہ نرسنگ کالج میں قائم کنٹین و فوٹو کاپی شاپ گزشتہ دو سال سے بند ہے نرسنگ کالج پرنسپل فرزانہ اقبال کو کافی مرتبہ طالبات نے درخواست بھی دی کہ کافی دور جانا پڑتا ہے کالج میں قائم شدہ کنٹین و فوٹو کاپی شاپ بند رکھی ہے جسکی کافی سہولت تھی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز جناح نرسنگ کالج بھی وزٹ کریں اور پرنسپل فرزانہ اقبال کو معطل کیا جائے جسکی وجہ سے طالبات کو کافی پریشانی ہے۔اس موقع پر جناح نرسنگ کالج کی طالبات کے والدین نے میڈیا کی وساطت سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر صحت پنجاب سے پر زور اپیل کی ہے کہ جناح نرسنگ کالج میں ہماری بچیوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے ۔جب جناح نرسنگ کالج کی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ کالج کنٹین محمود برادرز نے اس وقت کے پرنسپل سے اجازت کے بعد خود تعمیر کی تھی جسکا تمام خرچہ بھی محمود برادرز کے ترجمان عبدالروف نے کیا تھا ۔ریکارڑ کے مطابق کنٹین کنٹریکٹر محمود برادرز کے ترجمان محمود اورعبدالروف نےسابقہ نگران وزیر صحت اور گوہر اعجاز کو بھی کنٹین دربارہ کھولنے کی درخواست کی جس پر فوری ایکشن اس وقت کے پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج ڈاکٹر ندیم حفیظ بٹ نے پچیس فروری دو ہزار تئیس کو لیا اور پرنسپل نرسنگ کالج فرزانہ اقبال کو حکم دیا کہ فوری کنٹین کھولی جائے لیکن اس پر ابھی تک کوئی عمل درآمد نہ ہوا ۔ اس سلسلہ میں جب کنٹریکٹر کنٹین سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پرنسپل نرسنگ کالج فززانہ اقبال کے پاس ایک سال سے مسلسل چکر لگا رہے ہیں اور انکے وعدوں پر وعدے جاری ہیں جس کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا ہے کنٹین میں آگ لگا دی گئی اور سامان چوری کر لیا گیا جسکی چابی پرنسپل کے پاس ہے اور نہ کنٹین کھولنے دی جا رہی ہے اور نہ ہمارے نقصان کا ازالہ کیا جا رہا ہے ۔اس نقصان کی درخواست اس وقت کے پرنسپل علامہ اقبال میڑیکل کالج کو دی جس پر کمیٹی تو بنا دی گئی لیکن نقصان پورا کرنے اور کنٹین کنٹریکٹر کو کنٹین کھولنے کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا ۔کنٹین کنٹریکٹر محمود اور عبدالروف نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق سے پر زور اپیل کی ہے کہ پرنسپل کے اس رویہ پر ایکشن لیا جائے اور کنٹین کھلوائی جائے اور فرنیچر ۔فریزر سامان کنٹین و فوٹو کاپی مشین کنٹریکٹر کو دلوایا جائے۔ریکارڈکے مطابق نرسنگ کالج کنٹین کی تمام بلڈنگ کنٹین کنٹریکٹر محمود برادرز نے قانونی اجازت کے بعد خود تعمیر کی تھی جس سے کالج طالبات اور سٹاف کو کافی سہولیات میسر تھیں ۔سٹاف کالج نے بھی کنٹین دربارہ کھولنے کا مطالبہ کر دیا ہے انکا کہنا تھا کہ اس کنٹین کے کھلنے سے طالبات اور سٹاف میں خوشی کی لہر دوڑ ے گی۔اور طالبات کو کالج سے باہر نہیں جانا پڑے گا ۔