مبارکباد کے مستحق ہیں
یلغار فیصل شامی
اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ
اچھے ہی ہونگے اور ہم بھی اچھے ہی جی دوستوں آج ہم آپ کو امحفل تھیٹر میں پیش کئے جانے والے خوبصورت اور مزاحیہ کھیل. کی کہانی مختصر سنانے جا رہے ہیں س اور محفل ڈرامے میں پیش کئے جانے والا ڈرامہ جو تھا اسکے پروڈیوسر اور ہدایت کاار معروف اسٹیج اداکار نسیم وکی تھے جبکہ۔دیگر اداکاروں میں اکرم ااداس جنکا ڈائیلاگ بوٹا گالاں کڈدا جے ہے اور اکرم اداس نے بھی اہم کردار اادا کیا جبکہ ااچھی خان خوشبو ۔ میناہل خاان سمیت دیگر اداکاروں نےبھی اداکاری کی اور جس ڈرامے کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس کا نام تھا یہ چوڑیاں اور ڈرامہ یہ چوڑیاں کے مرکزی کردار ٹاپ فلم اسٹار جناب معمر رانا ادا کر رہے ہیں جو کہ بختو کا کردار نبھا رہے ہیں اور بختو ایک ایسا لڑکاا ہے جو شہر سے دہات میں یعنی اپنے پنڈ میں مامے کے گھر رہنے آیا ہے اور ماما جو ہے وہ اکرم اداس ہیں کی بیٹی کو پسند کرتا ہے اور مزکورہ ڈرامے میں دیہات کا ماحول دکھایا گیا ہے جہاں گاوں کے چوک پہ دن بھر پنڈ کے لڑکے جمع رہتے ہیں اور لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے نظر آتے ہیں فہد خاان بھی ڈرامے میں مزاحی کرداار سے بھرپور حاضرین سے داد وصول کرتے نظر آئے اور یہ بھی بتا دیں کے جب یہ تحریر آپ اخبار میں پڑھ رہے ہونگے تو اس وقت تک یہ ڈرامہ اپنے خوبصورت اختتام کو پہنچ چکا ہو۔گا. اور چوڑیاں اور بختو کے کردار پہ نظر ڈالی جائے تو یقیننا چوڑیاں جو ہے وہ ماضی کی بہترین فلم رہی اور چوڑیاں فلم اپنے دور کی یاادگار اور سپر ہٹ فلم تھی. جسکے گاانے آج بھی بچے بچے کی زبان پہ مقبول عام ہیں اور فلم میں بھی معمر رانا نے بختو کا کردار ادا کیا تھا اور یہ بختو کا کردار معمر رانا کی زندگی کا یاد گار کردار تھا بختو کے کردار اور فلم چوڑیاں نے معمر رانا جسے ہم سب دوست پیار سے مومی کہتے ہیں کو فلم چوڑیاں نے راتوں رات شہرت کی بلندی پہ پہنچا دیا اور اگر دیکھا جائے توومعمر رانا پاکستان فلم انڈسٹری کا ایک ایسا. کردار ہے اور اداکاار بھی ہے جو تین سو سے زائد فلموں میں کام کر چکے ہیں اور ہمارے دوستوں کی رائے ہےکہ مسلسل کئی دہائیوں سے فلم انڈسٹری کی دن رات خدمت کرنے والے اداکار کو صدارتی تمغہ حسن کار کردگی سے نوازا جانا چاہئیے. اور یقیننا جب اسٹیج ڈرامہ دیکھا تو اسکی کہانی اور کردار دیکھ کے از خود ہی ماضی کی یادوں میں کھو گئے اور فلم چوڑیاں کیی یاد دلوں میں تازہ ہو گئی اور ہمیں چوڑیاں فم کے مناظر آنکھوں کے سامنے ازخود ہی گھومنے لگے ویسے تو مومی کی پہلی فلم کڑیوں کو ڈالے دانہ تھی لیکن چوڑیاں یاد گار رہی اور فلم چوڑیاں تو قصہ ماضی بن چکی لیکن نسیم وکی کاا پیش کردہ ڈرامہ یہ چوڑیاں بھی فلم چوڑیاں کی کہاانی ہی نظر آئی اور یقیننا فلم پہ تو عوام نے بختوو کو پردہ اسکرین پہ دیکھا لیکن محفل میں پیش کئے جانے والے ڈرامے میں وہ عوام کے روبرو پرفارم کر رہے ہیں. اور عوام ٹاپ فلم اسٹار کو روبرو دیکھنے کے لئے دیوانہ وار محفل تھیٹر میں ڈرامہ دیکھنے پہنچ رہی ہے اور ڈرامہ رات گیارہ بچے پیش کیا جاتا رہا اور ہمیں بھی گزشتہ سے پیوستہ روز یہ ڈرامہ دیکھنے کا موقع ملا بہت سے دوستوں سے ڈراموں کے ققصے سنتے رہے اس لئے جب گزشتہ روز شام میں مومی سے خاصی دیر بعد ملاقات ہوئی تو ہم نے بھی ڈرامہ دیکھنے کی فرمائش کر دی تو مومی نے حامی بھری اور فوری طور سے اپنے کوارڈینیٹر مصطفی کا نمبر دیا اور ہدایت بھی دی کے میرے مہمان ہیں جنھوں نے ڈرامہ دیکھنا ہے اور ہم نے بھی ڈرامہ دیکھا اور نا جاانے کتنے طویل عرصے بعد اسٹیج پہ ڈرامہ دیکھا ہمیں تو یہ بھی یاد نہیں کہ آخری بار اسٹیج کس زمانے میں یا کس سن میں گئے تھے لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ بچپن میں ہمارے گھر. الحمراء سے ڈرااموں کے پاس آتے تھے اور ہم شوق سے دیکھنے جاتے تھے اور جب ہم ڈرامہ دیکھتے تھے تو اس وققت جناب امان اللہ مرحوم شوکی خان مرحوم سہیل احمد وسیم عباس ا۔ور علی ۔ فن کے باتاج باادشاہ عمر شریف ۔ معین اختر مرحوم سمیت کتنے ہی ایسے اداکار تھے جن کے دم سے اسٹیج کی رونقیں بحال رہتی تھیں لیکن ایک ایسا وققت آیا کے اسٹیج زوال پزیر. کا شکار ہوا لیکن اب ایک وقت لگتا ہے اسٹیج کا اچھا وقت پھر سے آنے والا ہے اکیونکہ بڑے بڑے ٹاپ اسٹار اسٹیج پہ جلوہ افروز ہوتے نظر آ رہے ہیں تو بہر حال مبارکبااد کے مستحق ہیں جو آج کے اس ٹینشن زدہ ماحول میں عوام. کو خوشیاں بکھیر رہے ہیں. اور عوام کے اداس چہروں پہ رونق بخش رہے ہیں تو بہر حال ہماری بھی دعا ہے جلدی اسٹیج کا بھی اچھا وقت آئے اور اسٹیج کے ساتھ ساتھ فلم سازوں اور فلم بینوں کے لئے اچھا وقت آئے گا اور فلمی اسٹوڈیوز کی چکا چاند روشنیاں واپس چمک سکیں گی تو بہر حال اجازت دوستوں ںملتے ہیں جلد بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

