قانون طاقتور کی ڈھال یا کمزور کی امید

Enoch Fiaz Sahotra Adv


قانون طاقتور کی ڈھال یا کمزور کی امید؟
قانون کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ اگر یہ ریڑھ کی ہڈی مضبوط ہو تو معاشرہ سیدھا کھڑا رہتا ہے، اور اگر یہی کمزور پڑ جائے تو پورا نظام لڑکھڑا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں قانون کو اکثر طاقتور کی ڈھال اور کمزور کے لیے آزمائش بنا دیا گیا ہے۔
اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ قانون صرف کتابوں میں لکھا ہوتا ہے، عملی زندگی میں نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قانون موجود ہے، مگر اس پر عمل درآمد کا فقدان ہے۔ طاقت، پیسہ اور اثر و رسوخ انصاف کے ترازو کو ایک طرف جھکا دیتے ہیں، جس سے عام آدمی کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
قانون کی سب سے بڑی طاقت اس کا درست وقت پر درست استعمال ہے۔ غلط ایف آئی آر، شواہد میں تاخیر، اور قانونی نکات سے لاعلمی وہ عوامل ہیں جو مضبوط مقدمات کو بھی کمزور بنا دیتے ہیں۔ انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ لاعلمی ہے، کیونکہ جو شخص اپنے حقوق سے ناواقف ہو، وہ آسانی سے استحصال کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم قانون کو تب یاد کرتے ہیں جب خود متاثر ہوتے ہیں، مگر روزمرہ زندگی میں قانون شکنی کو معمولی سمجھتے ہیں۔ ٹریفک قوانین سے لے کر سماجی ذمہ داریوں تک، ہماری لاپرواہی ہی قانون کو کمزور بناتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون کو خوف کی علامت نہیں بلکہ تحفظ کی ضمانت سمجھا جائے۔ عوام میں قانونی شعور بیدار کیا جائے، تاکہ ہر شہری جان سکے کہ قانون اس کے خلاف نہیں بلکہ اس کے حق میں ہے۔ جب قانون سب کے لیے برابر ہوگا، تبھی انصاف زندہ رہے گا اور معاشرہ حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔
[24/01, 11:56] Enoch Fiaz Sahotra Adv ن

یلغار: انوک فیاض
کالم نگار Advocate

More From Author

آج کا اخبار

خواتین کا سوسائٹی میں کردار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے