خواتین کا سوسائٹی میں کردار

عنوان: خواتین کا سوسائٹی میں کردارازقلم: یسرا امانت “وجودِ زن سے ہے تصویرے کائنات میں رنگاسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزو درنگ”اقبال کا یہ شعر اس بات کی گواہی دیتا ہےکہ عورت کے ہونے سے دنیا کی تصویر میں رنگ ہیں اور اُسی کی آواز سے زندگی میں گہرائی ہے حقیقت تو یہ ہے کے خواتین کا سوسائٹی میں کردار بہت اہم ہے وہ گھر سنبھالنے کے ساتھ ساتھ سوسائٹی میں بھی نام روشن کر رہی ہیں خواتیں تعلیم ،صحت ،کاروبار اور سیاست جیسے ہر میدان میں خود کو کامیابی کی سیڑھی چڑھا رہی ہیں کہیں ٹیچر کہیں پروفیسر کہیں ریسرچر بنتی کہیں صحت کے میدان میں ڈاکٹر ،نرس ،ہیلتھ ورکر بنتی کہیں سیاست کے میدان میں وہ لیڈر اور پالیسی میکر بنتی ہوئی نظر آتی ہیں اور کئی اتنی دلیر ہوتی ہیں کے وکالت کے شعبہ میں خود کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہیں جو خود کی آواز بننے کے ساتھ ساتھ ہر اس عورت کی آواز بن جاتی ہے جسے دنیا کی گندی نظریں کچلنے کے لیے تیار بیٹھی ہوتی ہیں وہ اپنا حق منوانے کے ساتھ ساتھ ہر عورت کا حق منوانے کی طاقت رکھتی ہیں تو پھر عورت کمزور نہیں دلیر ہے عورت کو کمزور سمجھنے والا خود سب سے بڑا کمزور ہے جو یہ بھول چُکا ہے کہ مرد کو پیدا کرنے والی بھی محض ایک عورت ہے لیکن ہمارے معاشرے میں عورت ہونا جُرم سمجھا جاتا ہے عورت ہونا گناہ سمجھا جاتا ہے جبکہ عورت کا نہ ہونا سوسائٹی کے لیے ناکامی ہےہمارے معاشرے میں عورتوں کو صرف جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا عورتوں کے کردار کو گندہ کیا جاتا ہے عوتوں کو آزادی سے محروم رکھا جاتا ہے عورتوں کو اُن کے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے عورتوں کو تعلیم و تربیت دینے کی بجائے اُن کو گھروں میں بند کر دیا جاتا ہے اور جاہلیت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کیا یہ زیادتی نہیں افسوس ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے جاہل لوگ موجود ہیں جن کے مطابق تعلیم حاصل کرنا صرف مرد پر فرض ہے عورت کو تعلیم سے محروم رکھنا فرض سمجھا جاتا ہے یہ عورت کے ساتھ ساتھ اُس کی آنے والی نسل کے ساتھ بھی زیادتی ہے عورت کا کامیاب ہونا آنے والی نسلوں کی کامیابی ہے تعلیم یافتہ خواتین معاشرے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور ہماری سوسائٹی کو کامیابی کے ساتھ ساتھ کامیاب عورتوں کی بھی ضرورت ہے جنہوں نے آنے والی نسلوں کو ناکامی سے بچا کر کامیابی کی سیڑھی چڑہانا ہے ہمیں چاہیے ہر اُس عورت کی آواز بنیں جس کی زبان کو کسی جاہل نے دبا رکھا ہے ہمیں چاہیے عورتوں کو زلیل کرنے کی بجاۓ ان پر جسمانی تشدد کرنے کی بجائے ان کو گندہ اور ان کے کردار کو اُچھالنے کی بجاے ان کو تعلیم و تربیت دی جاے ان کو اسٹبلیش کیا جائے تا کے معاشرہ کامیابی اور امن و سکون کی طرف گامزن ہو اور سوسائٹی ترقی کرے

More From Author

قانون طاقتور کی ڈھال یا کمزور کی امید

آج کا اخبار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے