ہمارے پرانے وقتوں کے ساتھی سینئیر جرنلسٹ اعظم نیازی اس دنیا میں نہیں رہے اور جب یہ خبر سنی تو یقینا انتہائی دکھ و۔ رنج کی کیفیت طاری ہو گئی اعظم خان نیازی سے آ شنائی آج کی بات نہیں یہ یاد ہے ہمیں کہ جب انیس سو چھیانوے اور ستانوے کے بیچ جب شہر لاہور کو خیر باد کہا اور تمام کشتیاں جلا کی اسلام آباد می مستقل سکونت یعنی رہائش اختیار کر لی اور جب اسلام آباد میں قیا م پزیر رہے اور اس دوران جو چند صحافی تھے اسلام آباد سے جن سے آ شنائی ہوئی اعظم خان نیازی بھی انہی میں شامل ہیں جب اعظم خان نیازی
مرحوم سے دوستانہ ہوا اور بہت اچھا وقت گزرا اور ہر قدم پہ اعظم نیازی بھی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور بہت دفعہ تو شہر اسلام آباد سے باہر بھی اکٹھے سفر کیا اور یقینا ان سے آ شنائی بھی تب سے ہے جب ہم روزنامہ خبریں میں بطور سب ایڈیٹر بھرتی ہوئے اور اعظم خان نیازی بھی خبریں میں بطور رپورٹر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے ؤر بہت سی تقریبات میں بھی ہماری ملاقات ہو جاتی تھی
انتہائی میٹھی گفتگو خوش خوراک نرم و خوش مزاج طبیعت کے مالک تھے ہر وقت چہرے پہ مسکراہٹ سجائے رہتے کوئی بھی پریشانی ہو لیکن پھر بھی ہنستے رہتے تھے اور پھر جب اسلام آباد پاکستان شروع ہوا اور انتظامیہ ہمارے پاس آ گئی تو جناب اعظم نیازی بھی روزنامہ پاکستان سے منسلک ہو گئے بہت سینئیر رپورٹرز تھے اور جونئیر ز کو سکھانے سے گھبراتے نہیں تھے اور آخری ایام میں بھی روزنامہ پاکستان اسلام آباد سے وابسطہ تھے اور یقینا زندگی کا طویل عرصہ اعظم نیازی نے شعبہ صحافت کی نظر کیا اور اس دوران بہت سے اخبارات میں کام کیا اور جن نگینہ ناز عباسی کے ساتھ ملکر گرفت کا آغاز کیا تو اس وقت طارق حبیب بھٹی صاحب ملک غلام مصطفی ُ اور اعظم نیازی و دیگر دوست بھی ہمارے ساتھ رہے جبکہ روزنامہ پاکستان اسلام آباد سے ملحقہ ٹیوی چینل میں بھی پروگرام کر تے رہے اور تاحال کر رہے تھے اور یقینا اعظم نیازی مرحوم کا دنیا سے رخصت ہو جانا بھی شعبہ صحافت کا سیاہ ترین باب ہے یقینا صحافی برادری کے لئے دکھ کی گھڑی ہے کہ صحافی برادری ایک اچھے دوست سے ساتھی سے محروم ہو گئی یقینا دکھ بھری خبر ہے کہ میدان صحافت کا روشن چمکتا۔ ستارہ ڈوب گیا یقینا صحافی برادری کے لئ اور سب کی طرح ہماری بھی یہی دعا ہے کہ اللہ پاک مرحوم اعظم نیازی کی خطاؤں سے درگزر فرمائے اور انکے درجات بلند فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطاء فرمائے آمین ثم آمین