خس کم جہں پاک کھیل ختم پیسہ ہضم
یلغار فیصل شامی
خس کم جہاں پاک کھیل ختم پیسہ ہضم جی دوستوں ملک بھر میں ایک دفعہ پھر امن قائم ہو گیا تین چار دن سے یوں لگ رہا تھا کہ پورا ملک ہی میدان جنگ بن گیا خیبر تا کراچی احتجاج احتجاج کا نعرہ بلند ہوا ملک بھر سے احتجاج کے لئے قافلے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے اور یہ قافلے جو تھے اپنے قائد کی آواز پہ جوق در جوق اسلام آباد پہنچتے رہے اور احتجاج کا مقصد کیا تھا مقصد محض یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو رہائی دلوانا اور جناب کپتان کو تو رہائی نصیب نا ہو سکی لیکن پورا ملک ہی میدان جنگ بنا نظر آیا جگہ جگہ پولیس اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں احتجاج کے لئے اسلام آباد پہنچنے والوں نے جگہ جگہ لگے کنٹینر ہاتھوں سے ہٹا کے رستے صاف کئے اور جیسے تیسے اسلام آباد پہنچے اور جب مظاہرین اسلام آباد پہنچے تو انکے استقبال کے لئے پاکستان پولیس اور پاک فوج و پاک رینجرز کے جوان موجود تھے اور مظاہرین جو احتجاج کے لئے اسلام آباد ڈی چوک پہنچنا چاہ رہے تھے پاک فوج و رینجرز کے جوان احتجاج کرنے والوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور مظاہرین جو اسلام آباد پینچ کے ڈی چوک پہ دھرنا دینے کے لئے بےقرار سے نظر آ رہے تھے انکی بےقراری و بے چینی کو دور کرنے کے لئے پاک فوج و رینجرز کے جوان موجود تھے جنھوں نے احتجاج کرنے والے ہزاروں مظاہرین کو ڈی چوک پہنچنے سے روک دیا اور جو کچھ وفاقی دارالحکومت میں ہو رہا تھا وہ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کے لئے پریشانی کا باعث تھا ہر محب وطن پاکستانی حیران بھی تھا اور پریشان بھی لیکن سب کی پریشانی و حیرانی اسوقت ختم ہوئی جب یہ خبریں سننے کو ملی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے احتجاج کرنے والوں کو ڈی چوک پہنچنے سے قبل ہی واپس اپنی اپنی پناہ گاہوں میں لوٹنے پہ مجبور کر دیا اور بتاتے چلیں کے احتجاج کرنے والوں کی قیادت کرنے والے وزیر اعلی کے پی کے جناب امین علی گنڈا پور اور جناب خان کی اہلیہ بشری بی بی جو ہیں جب انکو اطلاع ملی کہ احتجاج کرنے پہ قانون نافز کرنے. والے اداروں کی طرف سے شیلنگ و فائرنگ کی جائیگی تو یہ سن کے احتجاج کرنے والوں کے قائدین ڈی چوک سے دم دبا کے ایسے بھاگے جیسے گدھے کے سر سے سینگ یقینا کارکنوں نے قیادت کو روکنے کی بھرپور کوشش کی لیکن کارکن اپنے قائدین کو ڈی چوک سے بھاگنے سے روک نا سکے اور جب گنڈا پور صاحب احتجاج کرنے والی جگہ سے بھاگے تو انکے ساتھ جناب کپتان کی اہلیہ بھی ہمراہ تھی اور قائدین کے اس طرح بھاگنے سے دلبرداشتہ ہوئے اور اسکے بعد رہی سہی کسر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شیلنگ و ہوائی فائرنگ کر کے پوری کر دی اور اپنی قیادت کے رپوش ہونے کے بعد احتجاج کرنے والے مظاہرین شیلنگ و ہوائی فائرنگ سے ڈر کے تتر بتر ہو گئے اور قانون نافز کرنے والے اداروں نے آنا فانا ڈی چوک خالی کروا لیا اور ڈی چوک خالی ہوتے ہی گزشتہ تین چار دن سے چلنے والے فلم کا دی اینڈ ہوا اور اس فلم کو اختتام تک پینچانے میں قانون نافز کرنے والے اداروں نے اہم کردار کیا اور اسی لئے پاکستانی قوم قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاک فوج کے سربراہ جناب حافظ عاصم منیر کو خراج عقیدت بھی پیش کر رہی ہے یقینا پاک فوج دنیا بھر کی مانی ہوئی فوج ہے پاکستانیوں کی شان و فخر ہے پاک فوج اور ڈی چوک سے مظاہرین کو منتشر کرنے میں پولیس پاک فوج و رینجرز کے جوان بھی پیش پیش رہے اور پاک فوج کے جوان وقاعی مبارکباد کے مستحق ہیں جنھوں نے کمال حکمت عملی سے ڈی چوک خالی کروا لیا اور یوں احتججی مظاہرین جناب عمران خن کی رہائی کی امید لئے واپس گھروں کو لوٹ گئے یعنی کہ لوٹ کے بدھو گھر کو آئے اور یقینا احتجاج اپنے اختتام کو پہنچا لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اس احتجاج میں پولیس اہلکار جام شہادت نوش کر گئے کتنے ہی پولیس اہلکار اور عوام جو ہیں وہ بھی شدید زخمی ہوئے اور رینجرز کے اہلکار وں نے بھی جام شہادت نوش کر گئے یقینا افسوسناک خبر ہے احتجاج تو ختم ہو گیا لیکن احتجاج میں خون ناحق بھی بہہ گیا اور مالی نقصان تو پورا ہو سکتا ہے لیکن جانی نقصان کا کوئی مداوا نہیں اور یقینا پولیس و رینجرز کے جوانوں کی شہادت پہ پوری قوم غمگین ہے افسردہ ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ پاک شہیدوں کے درجات بلند فرمائے اور یہ بات بھی غلط نہیں کہ احتجاج کو ختم کروانے میں جناب محسن نقوی نے بھی اہم کردار ادا کیا مظاہرین سے مزاکرات بھی ہوئے لیکن نتیجہ نا نکلا نا حکومت جناب کپتان کو رہا کرنے پہ آمادہ تھی اور نا ہی احتجاج کرنے والے دھرنا دینے کے لئے جگہ بدلنے پہ تیار تھے اور یہ بات بھی حقیقت تھی کہ اگر مظاہرین دھرنا دینے کے لئے ڈی چوک پہنچ جاتے تو یقینا دھرنے پہ بیٹھنے والوں کو اٹھانا مشکل ہو جاتا اور یقینا یہ بات بھی ٹھیک ہی سمجھی جائے کیونکہ اس سے قبل بھی جناب طاہر القادری اور جناب عمران خان نے مشترکہ دھرنا دیا تھا اور وہ دھرنا بھی طویل ترین تھا اور اسی وجہ سے خیال تھا کہ اگر ڈی چوک پہ دھرنا دیا گیا تو یقینا مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اسی لئے حکومت نے احتجاج کرنے والوں کو ڈی چوک پہنچنے سے روکنے کے لئے ہر حربہ آزمایا او ر با لآ خر حکومت مظاہرین کو ڈی چوک پہنچنے سے روکنے میں کامیاب رہی اور جناب عمران خن کی رہائی بھی ادھوری رہ گئی اور کیا خوب کہا ہمارے وفاقی اطلاعات جناب عطاء تارڑڑ جو ہیں انکا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور کا نام بھگوڑا پونا چاہئیے اور یہ بھی کہا کہ جناب خان کی فائنل کال مس کال ہو گئی بہر حال شکر ہے کہ امن ہوا تین چار دن سے جو عوام کی حالت تھی بے چینی و بے قراری کی وہ بھی ختم ہوئی ملک بھر کا نظام کاروبار زندگی جو مفلوج سے ہو کے رہ گئے تھے وہ بحال ہو ئے سب نے شکر کا کلمہ پڑھا سکون کا سانس لیا کہ اللہ اللہ کر کے امن قائم ہو گیا تو بہر حال دوستوں اب دیکھتے ہیں کہ میدان سیاست میں آئندہ مزید کیا ہو گا یہ بات بھی وقت ہی بتا سکتا ہے تو یقینا آپ بھی انتظار کریں وقت کا کہ کیا ہوتا ہے اور امید ہے کہ آئندہ جو بھی ہو گا اچھا ہی ہو گا ملک. و قوم کے لئے اور اسی آس و امید کے ساتھ فی الحال ہمیں دیں اجازت دوستوں ملتے ہیں جلد بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا