دعا ہے کہ ‘::
یلغار فیصل شامی
آج ایکدفعہ پھر سترہ اگست ہے سترہ اگست کی تاریخ. . ہماری تاریخ کی کتابوں میں سیاہ حروف سے رقم ہے جی دوستوں سترہ اگست. کے روز ہی پاکستان اہنے بہترین جرنیلوں سے محروم ہو گیا سترہ اگست جو ہے اس روز سابق پاکستانی صدر کا طیارہ نامعلوم حادثے کا شکار ہوا اور سترہ اگست انیس سو اٹھاسی میں ہونے والے فضائی حادثے میں سابق صدر ضیاءالحق بھی شہید ہوئے اور انکے ساتھ ساتھ پاک فوج کے بہترین بتیس جرنیل بھی شامل تھے جنھوں نے جناب سابق صدر ضیاء الحق شہید کے ساتھ زتبہ شہادت نوش کیا اور یقیننا حادثہ عظیم تھا اور یقینا سابق صدر کی شہادت پہ ہر آنکھ اشکبار تھی اور اگر دیکھا جائے تو سابق صدر شہید
ضیاء الحق کا دور حکومت سنہرا اور یاد گار ترین دور. تھا سابق صدر جنرل ضیاء الحق شہید نے ذولافقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا اور کرسی اقتدار پہ فائز رہے اور سترہ اگست کو بہاولپور کے مقام پہ فضائی حادثے میں شہید ہو گئے اور شہید صدر ضیاء الحق جنھیں مرد مومن مرد حق کا خطاب بھی دیا گیا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فیصل مسجد کے احاطے مءں. سپرد خدا کیا گیا یعنی کہ شید صدر کی آخری آرام گاہ فیصل مسجد کے احاطے میں ہے جہاں ہزاروں افراد روزانہ فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور شہید سابق صدر کی مغفرت کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور آج ایک دفعہ پھر سترہ اگست ہے اور سب کی طرح ہماری بھی یہی دعا ہے کہ اللہ پاک شہید صدر کے درجات کو بلند فرمائے اور انھیں جنت میں اعلی مقام عطاء فرمائے آمین ثم آمین